اقوام متحدہ میں رکنیت کے لیے نیتن یاہو کی اجازت کی ضرورت نہیں: فلسطین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے "لائسنس یا اجازت" لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ فلسطینی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ بیان اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطینی ریاست کو یکطرفہ طور پر تسلیم نہ کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں مزید کہا کہ "تمام ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر سکتے ہیں جن میں امریکی انتظامیہ بھی شامل ہے۔ ہمیں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے اور اقوام متحدہ میں اسے رکنیت دلانے کے لیے نیتن یاہو کی اجازت کی ضرورت نہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نہ صرف فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرتے ہیں بلکہ مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے کے بہ تدریج الحاق کو بڑھا کر وہاں آباد کاری کو گہرا اور وسعت دے کرفلسطینی ریاست کے امکانات کو تباہ کر رہے ہیں۔ وہ فلسطینی علاقوں کو غزہ کی پٹی سے مکمل طور پر الگ تھلگ کررہےہیں

اسرائیل نے بین الاقوامی نظام کو چیلنج کیا: حماس

دوسری جانب حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فیصلہ "بین الاقوامی نظام کے لیے ایک چیلنج ہے اور صہیونی ریاست کے حقیقی رویے کی تصدیق کرتا ہے جو بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں سے متصادم ہے اور ہمارے حقوق کی نفی ہے۔ فلسطینی عوام حق خود ارادیت کے لیے جدو جہد جاری رکھیں گے اور القدس پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام تک ہر محاذ پر کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

حماس نے مزید کہا ہے کہ اسرائیل کی پالیسی "تیس سال سے زیادہ عرصہ قبل مذاکرات کے آغاز کے بعد سےوقت حاصل کرنے پر مبنی ہے۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ فلسطینی اراضی کو چرانا، اسے یہودیانہ اور بستیوں کو وسعت دینا چاہتا ہے۔

قبل ازیں اتوار کو اسرائیلی کابینہ نے فلسطینی ریاست کو یکطرفہ طور پر تسلیم کرنے کو مسترد کرتے ہوئے ایک دستاویز پر دستخط کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیلی کابینہ نے کہا کہ "اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ مستقل تصفیہ کے حوالے سے بین الاقوامی احکامات کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے، کیونکہ ایسا تصفیہ صرف دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ذریعے اور پیشگی شرائط کے بغیر ممکن ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں