حوثیوں نے ہزاروں بچوں کو بھرتی کیا، 7 ہزار کو جنگ میں قتل کرا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک غیر سرکاری تنظیم میون آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس کی طرف سے جاری اعدادوشمار میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یمن میں 2014 سے اب تک 7000 سے زیادہ بچے مسلح تنازعے میں بطور فوجی استعمال کیے جانے کے بعد مارے گئے ہیں۔

تنظیم نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ مانیٹرنگ ٹیموں نے 2014 میں یمن میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے 2023 کے آخر تک 7020 بچوں کے قتل کو دستاویز کیا، یہ وہ بچے تھے جو بطور فوجی استعمال کیے گئے تھے۔ حوثی ملیشیا کی جانب سے ان کو بھرتی کیا گیا اور لڑائی کے مختلف محاذوں پر بھیجا گیا تھا۔ دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرکاری یمنی افواج 20 بچوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے تصدیق کی کہ حوثی گروپ وہ جماعت ہے جو سب سے زیادہ بچوں کو بھرتی کرتی ہے۔ تنظیم کی گزشتہ مدت کے دوران جاری کردہ رپورٹس کے مطابق اس گروپ نے آج تک اس ایکشن پلان کے لیے کوئی عزم ظاہر نہیں کیا جو اس نے یونیسیف کے ساتھ طے کیا تھا۔ اپریل 2022 میں حوثی گروپ نے بچوں کو بھرتی کرنے سے رکنے اور اپنی صفوں میں بھرتی ہونے والے بچوں کا پتہ لگا کر انہیں غیر فعال کرنے کا عہد کیا تھا۔

میون آرگنائزیشن نے یمن کے تمام فریقوں خاص طور پر حوثی گروپ پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر بچوں کی بھرتی بند کریں۔ بھرتی ہونے والے کم عمر افراد کو اپنی صفوں سے علیحدہ کرے۔ 2014 میں یمن میں تنازع کے آغاز کے بعد سے حوثی ملیشیا نے ہزاروں بچوں کو بھرتی کیا ہے اور انہیں جنگی محاذوں پر یا خطرناک فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا ہے۔ ان کارروائیوں میں بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز مواد نصب کرنا اور جاسوسی کرنا بھی شامل ہے۔

2011 سے ہر سال اقوام متحدہ نے حوثیوں کو مسلح تنازعات میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار گروپوں کی اپنی سالانہ فہرست میں شامل کیا ہے۔ بچوں کو بھرتی کرنے اور انہیں فوجیوں کے طور پر استعمال کرنے کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد 2016 سے حوثیوں کو بچوں کو مارنے اور معذور کرنے والوں ، سکولوں اور ہسپتالوں پر حملوں کرنے والوں کی فہرست میں بھی شامل کرلیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں