دبئی کے گولڈن ویزا کی طرف مزید پیشہ ور افراد راغب

شہر میں عالمی دفاتر کی کمی دور کرنے میں مددگار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

عالمی وبائی مرض کے عروج پر جب دبئی کو غیر ملکیوں کے اخراج اور ہمسایہ کاروباری مراکز سے بڑھتے ہوئے مقابلے کا سامنا کرنا پڑا تو حکومت نے وسعت اور آسان رسائی اختیار کی۔ یہ فیصلہ اب شہر کو تجارتی رئیل اسٹیٹ کے عالمگیر بحران سے بچنے میں مدد دے رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات - دبئی جس کا ایک حصہ ہے - نے عشروں پرانے معاشی ماڈل سے الگ ہونا شروع کیا جو تیل سے مالا مال خطے میں رائج ہے اور رہائش کو روزگار سے ملا دیا۔ حکام نے طویل مدتی 'گولڈن' ویزوں کے لیے اہلیت کا دائرہ وسیع کیا، کمپنیوں کے کاروبار کے لیے مقامی اکثریتی شراکت دار رکھنے کی شرط ختم کر دی اور کام کے ہفتے کو پیر سے جمعہ میں تبدیل کر دیا۔

پالیسی ساز تارکینِ وطن کو راغب کرکے اور ان میں سے کچھ کو کاروبار قائم کرنے کی ترغیب دے کر دبئی کی ایک عارضی شہر ہونے کی ساکھ کو ختم کرنے میں مدد کرنا چاہتے تھے۔ لگتا ہے کہ اس کا صلہ مل گیا ہے۔

بلومبرگ کے سوالات کے جواب میں حکام نے گذشتہ سال کا ڈیٹا جاری کیا جس میں (سازگار) تبدیلی کے پیمانے کا انکشاف ہوا۔ شہر کے پاس 2023 میں 411,802 فعال کاروباری لائسنس تھے۔ یہ 2022 کی سطح سے 30 فیصد اور 2021 سے 75 فیصد زیادہ ہے۔

اس ماہ کے شروع میں دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (ڈی آئی ایف سی) نے کہا کہ وہاں رجسٹرڈ اداروں کی تعداد 2023 کے مقابلے میں 26 فیصد بڑھ کر 5,500 سے زیادہ ہو گئی۔ فری زون میں اب تقریباً 41,600 افراد کام کرتے ہیں - جو 15 فیصد زیادہ ہے۔

اس کا اثر امارات کی تجارتی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر سب سے زیادہ واضح ہے۔ لندن اور نیویارک سمیت دیگر شہروں میں طلب میں کمی کے برعکس قبضے کی شرح ریکارڈ بلندی پر ہے۔ ڈی آئی ایف سی کے نام سے معروف دبئی کے مالیاتی ضلع میں دفتر کی جگہ کم ہے اور کرائے بدستور بڑھ رہے ہیں۔

کاروباری مرکز کا نمایاں ترین ٹاور فروخت کے لیے تیار ہے اور اس کی قیمت 1.5 بلین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ ڈی آئی ایف سی میں یہ پراپرٹی ایک ایسے وقت میں بروک فیلڈ کے عالمی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اثاثہ جات میں سے ایک ہے جب دیگر اثاثہ جات — بشمول لاس اینجلس اور لندن کے کینری وارف — گرتے ہوئے قبضے کا شکار ہیں۔

پراپرٹی فرم کشمین اینڈ ویک فیلڈ کور میں ریسرچ اور ایڈوائزری کی سربراہ پرتھیوشا گوراپو نے کہا کہ "مارکیٹ ان رجحانات سے بالکل الگ ہے جو ہم دنیا بھر میں دیکھتے ہیں۔ جبکہ بہت ساری مغربی مارکیٹیں اب بھی ہائبرڈ یا گھر سے کام کرنے والے ماڈل پر کام کر رہی ہیں، یہاں طلب میں اضافہ ہوا ہے اور تقریباً ہر کوئی دفتر میں واپس آ گیا ہے۔"

معاشی آزادی

یقیناً کئی بیرونی عوامل نے بھی آمد میں اضافہ کیا۔ بینکرز لاک ڈاؤن سے بچنے کے لیے ایشیا سے نقل مکانی کر گئے جب کہ دولت مند روسی افراد 2022 میں اپنے ملک کے یوکرین پر حملے کے بعد اثاثوں کو بچانے کے لیے یہاں منتقل ہو گئے۔ شہر کرپٹو سرمایہ کاروں اور دوسرے گھر کے متلاشی امیر ہندوستانیوں سے بھر گیا اور ان کے ساتھ ساتھ یورپ اور وسیع شرقِ اوسط کے ملازمت کے نوجوان متلاشیوں سے بھی۔

حکومتی اصلاحات نے کچھ نو آموز اداروں کو کاروبار قائم کرنے کے قابل بنایا۔

رسک انٹیلی جنس کنسلٹنسی رین نیٹ ورک کے شرقِ اوسط اور شمالی افریقہ کے ایک سینئر تجزیہ کار ریان بوہل نے کہا، "مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تبدیلیاں اہم ہوتی ہیں۔"

کاروباری املاک میں تیزی کے علاوہ آمد کے آثار کہیں اور نظر آ رہے ہیں۔ اسکولوں اور کلبوں کی انتظار کی فہرستیں لمبی ہوتی ہیں جبکہ اہم سڑکیں معمول کے مطابق جام رہتی ہیں۔ حکومت نے 5 بلین ڈالر کے پبلک ٹرانزٹ پروجیکٹ کا اعلان کیا ہے اور پالیسی سازوں نے پیش گوئی کی ہے کہ دبئی کی آبادی 2040 میں 5.8 ملین ہو جائے گی جو اس وقت 3.5 ملین سے زیادہ ہے۔

رہن کی شرح دو عشروں کی بلند ترین سطح پر رہنے کے باوجود رہائشی املاک کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر طے ہو رہی ہیں۔ ولاز کے سالانہ کرائے تقریباً 88,500 ڈالر تک بڑھ گئے ہیں۔ گذشتہ سال خریدار 50 لاکھ گھروں کے لیے قطار میں کھڑے ہوئے اور ایک ڈویلپر نے چند گھنٹوں میں 844 ملین ڈالر کے گھر فروخ کر دیئے۔ اعلیٰ سطح پر 2023 میں 25 ملین ڈالر یا اس سے زیادہ مالیت کے گھروں کی فروخت دگنی ہو گئی۔

بیک وقت ایک سال

نئے قوانین نے دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو دوسرے طریقوں سے بڑھا دیا ہے۔ پراپرٹی بروکر بیٹر ہومز کے مطابق 2019 میں 29 فیصد کے مقابلے میں اب صارفین کا پراپرٹی کی خریداری میں حصہ 44 فیصد ہے۔

لندن کے جیک الراسول ان ہزاروں تارکینِ وطن میں سے ایک ہیں جو دبئی میں گھر خریدنے کے خواہاں ہیں۔ ایک عشرہ قبل شہر منتقل ہونے کے بعد سے 40 سالہ شخص نے سال بہ سال زندگی گذاری ہے کیونکہ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ اگر ان کی ملازمت چلی جائے تو انہیں جانا ہو گا۔

لیکن مئی 2022 میں حکومت کی ویزا اصلاحات سے حوصلہ افزائی کے بعد انہوں نے ایک مالیاتی مشاورتی فرم کھول لی۔ "میں نے گویا ایک موقع دیکھا اور سوچا یہ اپنا کاروبار شروع کرنے کا اچھا وقت ہے۔ یہ اب اتنا مشکل نہیں ہے اور ویزا کے معاملے میں لچک یقیناً ایک بڑا عنصر ہے۔"

پورے شرقِ اوسط کے پالیسی ساز علم پر مبنی صنعتوں کو مستقبل کے طور پر دیکھتے ہیں اور تیل کی دولت کو ہائی ٹیک شعبوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ ایسی ملازمتوں کے لیے صحیح لوگوں کو راغب کرنے کے لیے حکام نے طویل مدتی منظر نامے اور پیشین گوئی کی اہمیت کو تسلیم کیا - جو کاروباری سربراہان کے لیے فیصلہ سازی کی بنیاد ہوتی ہے۔

گولڈن ویزا ایک حد تک اس بات کو یقینی بناتے ہیں حالانکہ شہریت بڑی حد تک زیرِ غور نہیں ہوتی۔

الراسول اپنی طرف سے کم از کم اگلے عشرے تک دبئی کو اپنا گھر بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زیادہ لوگ یہاں طویل عرصے تک رہنے کے لیے آ رہے ہیں۔ دبئی اس لحاظ سے بدل گیا ہے۔"

تیل کی دولت

لوگوں کے مائل ہونے کی ایک وجہ شرقِ اوسط کی بے پناہ تیل کی دولت ہے - متحدہ عرب امارات کا دارالحکومت ابوظہبی ریاستی فنڈز کا گھر ہے جو 1.5 ٹریلین ڈالر کے اثاثوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس نے متعدد کثیر قومی فرموں کو خطے میں توسیع پر غور کرنے پر آمادہ کیا۔

اوپن ہب کے ڈائریکٹر ناتھن گیٹ لینڈ کہتے ہیں کہ ان کی فرم اب اوسطاً ایک ماہ میں تقریباً 80 کمپنیاں قائم کرنے میں مدد کرتی ہے جبکہ یہی تعداد ایک سال پہلے ہر ماہ تقریباً 25 تجارتی لائسنس کی تھی۔ اور یہ متحدہ عرب امارات کے کارپوریٹ ٹیکس متعارف کرانے کے فیصلے کے باوجود ہے۔

گیٹ لینڈ نے کہا، "میں نے سوچا کہ کارپوریٹ ٹیکس کا منفی اثر ہو گا لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ مارکیٹ کی صلاحیت کی وجہ سے بڑی کمپنیاں یہاں آتی ہیں۔ جب وہ عملے کو یہاں منتقل کرتے ہیں تو ایک بالکل نئی مارکیٹ کھل جاتی ہے جہاں بہت سے اعلیٰ مالی حیثیت والے افراد منتقل ہو رہے ہیں۔"

پھر بھی کچھ حدبندیاں باقی ہیں۔ ان میں سے: جب رہائشی کام کرنا چھوڑ دیں تو کیا ہوتا ہے؟ مارش میک لینن میں ہندوستان، شرقِ اوسط اور افریقہ کے سی ای او رینی میک گوون کے مطابق دبئی کو ریٹائرمنٹ پروگرام اور ہیلتھ انشورنس پلانز قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ رہائشی شہر میں ریٹائر ہو سکیں۔

دبئی کی گھٹتی ہوئی ٹیکس فری حیثیت بھی اس کی مزید غیر ملکیوں کو راغب کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ایک ایسا شہر جو پہلے ہی دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، کارپوریشن ٹیکس کے علاوہ متحدہ عرب امارات نے وہاں 2018 میں خدمات پر سرکاری فیسوں میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس متعارف کرایا تھا۔

رین نیٹ ورک کے بوہل نے کہا، "عام طور پر دبئی اور متحدہ عرب امارات کو ایسے ناگزیر لیکن متصادم حالات کا سامنا ہے جہاں ایک طرف ملک میں لوگوں کو برقرار رکھنے کے لیے تقابلی فائدہ پیدا کرنے کے طریقے تلاش کرنے ہیں تو وہیں ٹیکسوں میں اضافہ اور ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کر کے ان کے بجٹ کو معقول وجہ فراہم کرنی ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں