رفح میں اسرائیلی حملہ چھ سے آٹھ ہفتے تک پھیل سکتا ہے، جنگی شدت میں اضافہ بھی متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ اگلے چھ سے آٹھ ہفتے کے دوران رفح میں جاری رہنے کا امکان ہے۔ اسرائیلی فوج غزہ کے انتہائی جنوب میں منظم جنگی یلغار کی تیاری کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج حماس کے مکمل خاتمے کے لیے رفح میں بھرپور جنگی کارروائی ضروری بتا رہی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے رفح پر حملے کی مخالفت کرنے والے ملک ہمیں جنگ جیتنے سے روکنا چاہتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ سمجھتے ہیں کہ رفح پر حملہ کر کے اسرائیل کی باقی رہ جانے والی جنگی صلاحیت کو کافی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور اس طرح وہ اپنی بمباری کی جنگی شدت میں کمی لانے کے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہیں۔

اس بارے میں دو اسرائیلی حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آزادانہ گفتگو کی۔ سابق اسرائیلی اینٹیلیجنس افسر کا کہنا ہے کہ اس امر کا انتہائی کم امکان ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے رفح پر بڑی جنگی یلغار کا پروگرام واپس لے لے گی۔

انھوں نے مزید کہا رفح حماس کا آخری گڑھ ہے۔ جہاں سے وہ اپنی جنگی بٹالینز کو کنٹرول کر رہا ہے۔ اس لیے لازمی ہے کہ اسرائیلی فوج حماس کے اس مرکز کو تباہ کرے۔

وزیر دفاع یوو گیلنڈ نے جمعہ کے روز کہا تھا اسرائیلی فوج رفح میں جنگ کی تیاری کر رہی ہے تاکہ حماس کے جنگجوؤں کو نشانہ بنا سکے، حماس کے عسکری مراکز کو نشانہ بناسکے اور حماس کی سرنگوں کو نشانہ بنا سکے۔ تاہم وزیر دفاع نے اس سلسلے میں کوئی واضح ڈیڈ لائن نہیں دی کہ اسرائیل کا اگلا حملہ رفح پر کب ہوگا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ رفح پر جنگی کارروائی غیرمعمولی ہوگی۔

وزیر دفاع نے کہا غزہ میں حماس کی چوبیس بٹالینز میں سے اٹھارہ کو تباہ کیا جا چکا ہے اور اب حماس کا اگلا مرکز رفح ہے۔ اس لیے اس پر حملے کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔

عالمی رہنماؤں کو خوف ہے کہ اسرائیلی فوج رفح میں ایک اور بڑی انسانی تباہی کی تیاری کر رہی ہے۔ جبکہ رفح میں موجود تقریباً 14 لاکھ بےگھر فلسطینیوں کے لیے رفح سے نکالنے کے بعد کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔

واضح رہے رفح کے موجودہ رہائشی جن میں بڑی تعداد غزہ کے دوسرے حصوں سے بےگھر ہو کر آنے والے فلسطینیوں کی ہے۔ مصری سرحد کے بالکل قریب عارضی خیمہ بستیوں میں رہ رہے ہیں۔ اس لیے مصر کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کی نئی جنگی یلغار کے نتیجے میں مہاجرین کا بڑا بہاؤ مصر کی طرف ہوگا۔

پچھلے ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی رہنما سے دو بار فون پر بات چیت کی ہے۔ تاکہ رفح میں اگلی جنگی کارروائی سے پہلے قابل بھروسہ منصوبہ تیار کریں اور ایک قابل بھروسہ منصوبہ کے بغیر یہ کارروائی نہ کرے۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل رفح کے رہنے والے عام لوگوں کو یہ موقع دے گا کہ وہ بڑے جنگی حملوں سے پہلے پہلے وہاں سے نکل جائیں۔ جبکہ امریکہ کو شبہ ہے کہ اسرائیل نے رفح میں بڑی جنگی کارروائی کرنے سے پہلے ایسی تیاری نہیں کی ہے جس سے شہری آبادیوں کا جانی نقصان نہ ہو۔

کئی امریکی حکام جو امریکہ اور اسرائیلی کے درمیان سفارتی رابطوں میں ہونے والی گفتگو سے آگاہ ہیں کہ صدر جو بائیڈن یہ توقع نہیں رکھتے کہ اسرائیل رفح میں فوری جنگی حملے کرنے جا رہا ہے۔ حماس کا بھی یہ کہنا ہے کہ اسرائیل کو اپنی مکمل فتح اتنی جلدی اور آسان نظر نہیں آتی۔

یاہو کی آپشنز مشکل ہیں اور ہمارے لیے بھی مشکلات ہیں۔ وہ غزہ پر حملہ کرنے کے لیے حماس کو مکمل ختم نہیں کر سکتے۔ خیال رہے یہی بات امریکی حکام اور انٹیلیجنس اسرائیلی حکومت بھی اپنے اینٹیلی جنس لوگوں کے لیے کہتی رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں