محمد علی کے پوتے بیاجیو والش سعودی عرب میں مقابلے کے لیے 'شکر گذار، پرجوش'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

مکسڈ مارشل آرٹس فائٹر اور لیجنڈ باکسر محمد علی کے پوتے بیاجیو والش نے العربیہ کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا وہ کھیلوں کے ایک عالمی مقام بننے کے لیے سعودی عرب کے سفر کا حصہ ہونے پر شکر گذار اور پرجوش ہیں۔

25 سالہ نوجوان 24 فروری کو ریاض میں کنگڈم ایرینا میں منعقدہ پرجوش پی ایف ایل چیمپئنز بمقابلہ بیلیٹور چیمپئنز فائٹ کارڈ کے حصے کے طور پر اپنا پیشہ ورانہ ایم ایم اے آغاز کرنے والے ہیں۔

انہوں نے العربیہ کو بتایا، "میں شکر گذار ہوں کہ میں تاریخ کا حصہ ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ پہلا موقع ہے جب دو بڑی تنظیمیں ایک ساتھ آ رہی ہیں۔ یہ زبردست ہے۔"

انہوں نے کہا، "خواہ باکسنگ ہو یا ایم ایم اے، سعودی عرب یقینی طور پر لڑائی کی دنیا میں آ رہا ہے۔ درحقیقت سعودی عرب میں زیادہ سے زیادہ کھیل شامل ہونے جا رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ کھیلوں کا ایک [ملک] بننے جا رہے ہیں۔ لہٰذا اس قسم کی تاریخ کا حصہ بننے کے لیے میں انتہائی شکر گذار ہوں۔"

محمد علی سے ملنے والی ترغیب

دنیا کے اہم ترین ایتھلیٹس میں سے ایک کے پوتے کے طور پر والش نے کہا وہ جانتے ہیں کہ انہیں اپنے دادا جیسا بہت بلند مقام حاصل کرنا ہے۔ ان کے دادا علی کو اب تک کا بہترین ہیوی ویٹ باکسر ہونے کی بنا پر "عظیم ترین" کا لقب دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، "میں جانتا ہوں کہ شرقِ اوسط میں میرے دادا کو کتنی عزت حاصل ہے اور میں انتہائی پرجوش ہوں۔ میرے نزدیک وہ ایک سپر ہیرو تھے۔ وہ شاید پوری دنیا میں ہر ایک کے لیے ایک سپر ہیرو تھے۔ اور اس کا مطلب ہے کہ اس اگلی لڑائی کے لیے سعودی میں لڑنے کے قابل ہونا بہت بڑی اور اہم بات ہے اور میں ایک مسلم ملک میں لڑنے کے قابل ہونے پر بہت پرجوش ہوں۔"

ایم ایم اے فائٹر کے مطابق ان کے دادا نہ صرف اُس کے لیے متاثر کن تھے جو انھوں نے اکھاڑے کے اندر کیا بلکہ اس کے لیے بھی جو انھوں نے لڑائی کے علاوہ کیا۔

"مجھے سب سے زیادہ متأثر کرنے والی چیز یہ ہے کہ انہوں نے رنگ سے باہر کیا کیا، نہ کہ وہ جو انہوں نے ایک فائٹر کے طور پر کیا کیا۔ وہ عوام کے چیمپیئن تھا۔ یہ ان کی [انسان دوستی] ہے جو میرے لیے سب سے زیادہ ترغیب کا باعث ہے۔"

"میں نے واقعی ان کے بارے میں کوئی بری بات نہیں سنی۔ جب لوگ میرے پاس آتے ہیں اور مجھے ان کے بارے میں یہ تمام حیرت انگیز کہانیاں سناتے ہیں۔ اگر وہ کبھی ان سے سرِ راہ ملتے تو کہتے ہیں کہ وہ ایک زبردست متأثر کن آدمی تھے، انتہائی شائستہ اور وہ اپنے وقت کے مشہور ترین آدمی تھے۔"

جبکہ والش کے بقول "کوئی دوسرا محمد علی نہیں ہوگا،" وہ لوگوں کو اپنے خوابوں کی پیروی کرنے اور کسی بھی مصیبت پر قابو پانے کی ترغیب دینے کی امید رکھتے ہیں۔

انہوں نے العربیہ کو بتایا، "کوئی دوسرا محمد علی نہیں ہوگا۔ لیکن میں سوچتا ہوں کہ ان کی مثال کی پیروی کی کوشش کرتے ہوئے آپ کئی لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں اس لیے میں یہی کرنا چاہتا ہوں۔"

مقصد کی تلاش

اپنے دادا کی باکسنگ کی مہارت سے متأثر ہونے کے باوجود نوجوان نے ایم ایم اے کی ہمہ گیری کے بجائے خود کو اس کی طرف مائل پایا۔

والش نے کہا، "اپنے لیے مجھے یہ خیال پسند آیا کہ ایک سے زیادہ مارشل آرٹس ہیں جو میں لڑائی میں کھیل سکتا ہوں۔ میں بس اس کی طرف متوجہ ہوا۔ یہ ایک طرح سے میری گود میں آ گرا۔"

وہ کالج کی سطح پر فٹ بال کھیلتے رہے لیکن اس کھیل سے انہیں تسکین نہ ملی۔

انہوں نے کہا، "فٹ بال کام نہیں آ رہا تھا۔ یہ وہ چیز نہیں تھی جس سے میں پیار کرتا تھا۔"

22 سال کی عمر میں ایتھلیٹ کو کوچنگ اور ریٹیل میں کام کرنا پڑا اور ساتھ آن لائن رئیل اسٹیٹ کا مطالعہ بھی کیا۔

وہ اپنی زندگی کی سمت سے ناخوش تھے اور محسوس کرتے تھے کہ محمد علی کے پوتے اور سابق فٹبالر کی حیثیت سے ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں۔

والش نے کہا کہ وہ جانتے تھے کہ انہیں ایک مقصد تلاش کرنا تھا۔

انہوں نے کہا، "اپنے دادا کے کیریئر پر غور کرتے ہوئے میں نے باکسنگ کے کھیل کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں۔ بڑے ہو کر جنگ سے متعلق واحد چیز جو ہم جانتے تھے وہ باکسنگ تھی۔ اور یقیناً یہ اس لیے تھا کہ میرے دادا کا اس کے ساتھ بہت کچھ لینا دینا تھا۔"

"لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ میں نے کبھی بھی لڑنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ میں کبھی نہیں جانتا تھا کہ میں یہاں آؤں گا اور لڑوں گا۔ لیکن زندگی اپنا کام کرتی ہے اور خدا کا اپنا منصوبہ تھا۔ اور اب ہم یہاں ہیں۔"

ایم ایم اے کے ساتھ، والش نے کہا وہ آخر ِکار یہ محسوس کرتے ہیں گویا وہ کچھ ایسا کر رہے ہیں جو انہیں پسند ہے۔

کھلاڑی کے مطابق اس کھیل نے انہیں "ذہنی، جذباتی اور روحانی طور پر ایک بہتر جگہ" پہنچنے میں مدد کی ہے۔

انہوں نے العربیہ کو بتایا، "مجھے لگتا ہے کہ اب میرا کوئی مقصد ہے۔ ہر ایک کا سفر مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ زندگی میں دیر سے مل سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ بہت کم عمری میں مل سکتا ہے۔ مائیکل جیکسن سات سال کے تھے جب وہ سپرسٹار تھے۔ اس لیے ہر ایک کا سفر مختلف ہوتا ہے۔"

والش کے مطابق اپنا مقصد تلاش کرنے کا مطلب صرف مشہور ہونا نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب دراصل یہ معلوم کرنا ہے کہ کوئی کیا کرنا پسند کرتا ہے۔

لیجنڈری باکسر کی طرح والش نے کہا کہ انہیں بھی اسلام پر عمل کرنے سے راحت اور رہنمائی ملی اور وہ سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ جانے کی امید رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "یہ گذشتہ سال کے موسم بہار کے قریب کی بات تھی جب میں نے حقیقت میں پہلی بار قرآن پڑھا۔ میں مسلمان پیدا ہوا تھا۔ میں نے ہمیشہ مسلمان کے طور پر پرورش پائی اور ہمیشہ یہ مانتا رہا کہ خدا ایک ہے۔"

"میں واقعی اپنے مذہب کے بارے میں اتنا نہیں جانتا تھا جب تک یہ کھیل میری زندگی میں نہیں آیا۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ خدا کا منصوبہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے جو کرنے کا منصوبہ ہم بناتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں