اسرائیلی جیل میں قید فلسطینی رہنما مروان برغوثی کی زندگی کو خطرہ لاحق

تنہائی میں بھیجنا اور وکلا کو ملنے سے روکنا حقیقی خوف پیدا کر رہا ہے: کمیشن برائے امور فلسطینی قیدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینی قیدیوں کے امور کی اتھارٹی نے پیر کے روز خدشہ ظاہر کیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران اسرائیل کی رملہ جیل میں قید تنہائی میں منتقل کیے جانے کے بعد فلسطینی رہنما مروان برغوثی کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

تحریک الفتح کے رہنما 65 سالہ مروان برغوثی کو 2002 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ دوسرے انتفاضہ کے دوران اسرائیل کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں انہیں چار مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینیوں کا ایک بڑا طبقہ برغوثی کو محمود عباس کی جگہ صدر بنانا چاہتا ہے۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے برغوثی کو قید تنہائی میں بھیجے جانے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ قدم منصوبہ بند بغاوت کے متعلق معلومات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا وہ دن گئے جب دہشت گرد جیلوں کو کنٹرول کرتے تھے۔

سابق قیدیوں کے امور کے کمیشن کے سربراہ قدورہ فارس نے کہا ہے کہ وکلا کو ان (برغوثی ) سے ملنے سے روکنا ان کی زندگی کے لیے حقیقی خوف پیدا کر رہا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب ساتھ ساتھ ان کے خلاف مسلسل اشتعال انگیزی بھی پھیلائی جارہی ہے۔

قدورہ فارس نے کہا کہ برغوثی کو قید تنہائی میں منتقل کرنا تمام قیدیوں کو نشانہ بنانے کے فریم ورک کے تحت ہی ایک اقدام ہے۔ قومی تحریک کے اسیر رہنماؤں کو بڑے پیمانے پر تنہائی میں بھیجا جارہا اور منظم تشدد کی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا بن گویر کے بیانات اسرائیلی رائے عامہ کے سامنے دکھاوے کی ایک نئی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

قدورہ فارس کے مطابق یہ تیسرا موقع ہے جب برغوثی کو دو ماہ کے اندر قید تنہائی میں منتقل کیا گیا ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی اداروں اور مقامی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور جیلوں کا دورہ کریں۔ اس وقت کئی دہائیوں سے قید افراد کے خلاف تمام بہیمانہ اقدامات اور خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے کام کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

غزہ کی پٹی میں سات اکتوبر سے جنگ شروع ہے اور 136 دنوں میں اسرائیل نے جارحیت میں 29092 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔ شہدا میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اس جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے سابق رہنماؤں اور عہدیداروں سمیت سات ہزار سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ فلسطینی قیدیوں کے کلب کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں 5,200 سے زیادہ فلسطینی قید ہیں۔

جنگ کے دوران سات روز کے لیے جنگ بندی کی گئی اور قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا تھا۔ اس عرصہ میں رہا ہونے والے فلسطینیوں نے اپنی قید کے مشکل حالات کا ذکر کیا ہے اور بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد ان مشکلات میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔ خوراک میں کمی اور سردی میں کمبل واپس کرنے اور اہل خانہ کو ملاقات سے روکنے سے اقدامات کئے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں