فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل : شمالی غزہ سے آبادی کے ایک بار پھر انخلاء کی کوشش

فلسطینی جہاں پہلے ہی بھوکوں مر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فورس نے شمالی غزہ میں موجود فلسطینیوں کو ایک بار پھر علاقے سے نکل جانے کا حکم دیا ہے کہ اس علاقے کو خالی کریں اور کہیں اور جابسیں۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ تازہ حکم منگل کے روز سامنے آیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے' ایک جائزے کے مطابق ہر چھ میں سے ایک فلسطینی بچہ اس علاقے میں بھوک سے مر رہا ہے۔' خیال رہے اس شمالی غزہ کے علاقے کو امدادی سامان کی ترسیل کی راہ میں ہمیشہ اسرائیل کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں بچے کھچے فلسطینیوں کی حالت قابل رحم ہے۔ اس علاقے کے 80 فیصد لوگ بے گھر ہو کر یہاں سے نکل گئیے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد رفح کی طرف گئی ہے۔

اب اسرائیلی اپنی جنگی یلغار کا دائرہ رفح میں بھی شدید تر کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ جہاں پہلے ہی غزہ کی تقریباً 23 لاکھ آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ پناہ لیے ہوئے ہے۔

ادھر شمالی غزہ میں منگل کے روز ایک بار پھر اسرائیلی فوج نے انخلاء کا یہ حکم زیتون اور ترکمان نامی محلوں میں موجود فلسطینیوں کودیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حماس اب بھی شمالی غزہ کے ان علاقوں میں سخت مزاحمت کر رہی ہے۔ جسے اسرائیلی فوج نے کئی ہفتے پہلے ختم کر دیا تھا۔

رہائشیوں کے مطابق غزہ شہر کے مشرقی علاقوں میں گزشتہ دو دنوں سے فضائی حملے اور زمینی لڑائی شدید ہوئی ہے۔ شمالی غزہ میں زیتون کے علاقےکے رہائشی ایمن ابو عواد نے کہا ' صورت حال بہت مشکل ہو چکی ہے۔ ہم اپنے گھروں میں بند ہو کر رہ گئے ہیں۔ '

بدھ، 22 نومبر 2023 کو غزہ شہر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران بچے شفاہ ہسپتال کے اندر پناہ لے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: اے پی)
بدھ، 22 نومبر 2023 کو غزہ شہر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران بچے شفاہ ہسپتال کے اندر پناہ لے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: اے پی)

بچوں کی اموات کا پھوٹ پڑنا

عالمی ادارہ برایئے نیوٹریشن کلسٹر کا کہنا ہے ' غزہ میں پانچ سال کی عمر سے نیچے کے 90 فیصد بچے ایک دن میں دو بار یا س سے بھی کم یعنی ایک بار ہی کچھ کھا سکتے ہیں۔ خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ علاوہ ازیں غزہ میں پھوٹنے والی بیماریاں بھی ان بچوں کے لیے موت کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ ان بچوں میں سے ستر فیصد بچے ہیضے کاشکار ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ یہ بن رہی ہے کہ ایک جانب بھوک ہے اور دوسری جانب 80 فیصد سے زائد آبادی کو پینے کا ساف پانی میسر نہیں ہو رہا ہے۔ یونیسیف کے اہلکار ٹیڈ چیبان نے اس بارے میں کہا 'غزہ کی پٹی قابل پر بچوں کی اموات میں ایک دھماکے جیسی صورت حال کا سامنا ہے۔

دسمبر میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ غزہ کی 23 لاکھ فلسطینیوں کی آبادی خوراک کے بد ترین بحران کا شکار ہے، اس آبادی کا ایک چوتھائی حصہ غذائی قلت کا شکارہے۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر آنے والی امداد کو نہیں روکتا ہے۔

جبکہ امدادی گروپوں کے مطابق غزہ کے اندر امدادی اشیاء کی ترسیل شدید متاثر ہے۔ اسرائیل کی بے رحمانہ بمباری اس امدادی سامان کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں