فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل فلسطینی عسکریت پسندوں کو' ہولوکاسٹ' کے خالق ہٹلر کی طرح پیش کرنے کے راستے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

1961 میں چار مہینوں کے دوران، ہولوکاسٹ کا ماسٹر مائنڈ ایڈولف ایچ مین یروشلم کے ایک عارضی کمرہ عدالت میں بلٹ پروف بوتھ میں بیٹھا اور کیمروں کے چکر لگاتے ہوئے، ریاست اسرائیل نے انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلایا۔ دو سال بعد، ناکام اپیل کے بعد، اسے پھانسی دے دی گئی - یہ ملک کی تاریخ میں آخری پھانسی تھی۔

مگر ادھر غزہ میں اسرائیلی جنگ چار ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ اس میں اسرائیل کے ہاں سوچ کے زاویے ہیں جو جرمنی کے ہٹلر نے خود یہودیوں کے لیے اختیار کیے تھے۔ دنیا اسے آج ہولو کاسٹ کے نام سے یاد کرتی ہے اور ہٹلر کو طعن کرتی ہے۔

سوچ کا اسرائیلی سفر بھی اس وقت اسی رستے پر محسوس ہوتا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو کافی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ اس مضمون کے لکھنے والے کے ذہن میں شاید یہی خیالات ہیں کہ سب ویسے ہی چل رہا ہے۔ ہاں اس وقت بندوق کی گولی اور بارود یہودیوں کو تاک تاک کے بھسم اور ختم کر رہا تھا اور اب یہودیوں کی واحد ریاست اسرائیل کی بمباری اور ٹینکوں گولیوں کے نشانے پر فلسطینی ہیں۔ یہی ایک چیز رکاوٹ بن سکتی ہے۔

یہ اسرائیل کے لیے اچھی بات ہے کہ جرمنی کا کردار تب مارنے والا تھا اور آج مارنے والے کے ساتھ ہے۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے تازہ ترین اجلاس میں بھی جرمنی قریب قریب اسی انداز سے تنے ہوئے موقف کے ساتھ کھڑا ہے کہ اسرائیل کا حق دفاع اہم ہے۔ ہولو کاسٹ کے وقت جرمنی کہ یہ سوچ ذرا سے فرق کے ساتھ اسی طرح یہودیوں کے خلاف تھی ، اتفاق سے آج فلسطینیوں کے خلاف ہے۔

1961 میں چار ماہ کی عدالتی سماعت کے دوران ہولو کاسٹ کا ماسٹر مائنڈ اڈولف ہٹلر ایک بلٹ پروف کیبن میں بیٹھا اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کا حصہ تھا۔اس کے خلاف بھی انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ زیر سماعت تھا ۔ آج اسرائیل کو بھی اسی طرح کے الزامات کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں تو نسل کشی کو مقدمہ زیر سماعت بھی آ چکا۔

اب ایک دوسرا مقدمہ اقوام متحدہ کی درخواست پر بین الاقوامی عدالت کے سامنے جاری ہے۔ اس میں بھی جہاں فلسطین پر ناجائز اسرائیلی قبضے کا مدعا زیر بحث ہوگا وہیں غزہ اور مغربی کنارے میں انسانیت کے خلاف جرائم کی باز گشت بھی موجود ہو گی۔ ہٹلر کے خلاف عدالت نے سزائے موت کا حکم سنایا تھا ، اس کے خلاف دو سال بعد اپیل خارج ہوئی توانسانی کے خلاف جرائم اور قتل انسانی میں پھانسی کی سزا پر عمل کر دیا گیا۔ وہ اس ملک میں آخری پھانسی تھی۔

یہ بظاہر ایک شخص کو اس کے انسانیت کے لیے جرائم میں کٹہرے میں کھڑا کرنا اور پھانسی پر لٹکانا تھا مگر اس کا ایک مقصد اس سے بڑا بھی تھا۔ کہ دنیا کو اس طرح کے جرائم سے پاک کرنا ہے کہ کوئی فرد یا ریاست کسی گروہ یا طبقے کو اس طرح اپنے خوف ، شک یا انتقام کا نشانہ بنانے سے باز رہے۔ جائے عبرت تھی اور ملزم نشات عبرت بنا۔

مگر وقت اور تاریخ کا پہیہ کاایک بار پھر اسی سمت گھومنے لگا ہے ۔ سات اکتوبر کے بعد ایک منظر نامہ غزہ میں ہے مجس میں اسرائیلی فوج کی بمباری سے اب تک 29 ہزار فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں ، ایک دوسرا غور ان فلسطینیوں کے بارے میں جاری ہے جو سات اکتوبر کے بعد اسرائیل نے گرفتار کیے ہیں۔ لیکن اب کی بار اسرائیلی حکومت میں یہ غور ہے کہ ان گرفتار سارے فلسطینیوں اور ان کے رہنماؤں کو اسی طرح پھانسی لگایا جائے۔ ہاں ایک فرق ضرور ہے اس وقت یہودی کا قتل عام ہولو کاسٹ کی سطح کو چھو گیا تھا آج فلسطینیوں کی کی نسل کشی کی باز گشت ہے لیکن آج انصاف کا ترازو بھی اسرائیل کے اپنے ہاتھ میں ہو سکتا ہے۔ اگرچہ زیادہ قتل اسی کے ہاتھوں ہوئے ہیں۔

یہ بھی پہلو قابل غور ہے کہ اس طترح کے منظر کی سطح مقامی رکھنی چاہیے اسے یاسے بین الاقوامی سطح کی سند سے نوازا جانا ضروری ہے۔ مگر یہ سوال بھی اہم بنا ہوا ہے کہ آیا گرفتار فلسطینیوں کو اسی پائے کے جرم کا ذمہ دار کہا جا سکتا ہے جو الزام 1961 میں ایک عدالت ہٹلر کے خلاف لے کر چل رہی تھی۔ اگر ایسا مان بھی لیا جائے تو کیا اس سطح کا عالمی سطح پر تماشے کا ماحول اور حمایت میزر اسکے گی۔ ایک بار پھر ہولو کاسٹ اور ہولو کاسٹ زدگان کی مظلوم ٹھہر سکیں۔

مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس وقت عالمی سطح پر خطے میں اور بھی ملک ہیں۔ فلسطینیوں کی حمایت خطے سے باہر بھی ہے جبکہ اسرائیل کے لیے 1961 والا ماحول اب کہاں سے تلاشنے میں کامیابی پائی جائے کہ اب تو خود امریکہ اندر سے نظریاتی اعتبار ہی نہین، سماجی، سیاسی اور انسانی تصورات کے ھوالے کئی طرح سوچنے والے لوگوں کو ملک ہے۔

یہ اگرچہ معمول ہے کہ مغربی کنارے کے واقعات کو اسرائیل عام طور پر اپنی مرضی کو فیصلہ بنانے کے لیے فوجی عدالتوں کا اہتمام کرتا ہے، اس تناظر میں سات اکتوبر کے واقعے کو ایک خصوصی عدالت اور سزائے موت کے احیاء سے کس طرح مربوط کیا جائے۔ اس میں جہاں سزائے موت کو دوبارہ زندہ کرنا اہم کام ہے وہیں غزہ کی اب تک جاری فلسطینیوں کو کے ذکر کو موت کی نیند سلانا بھی اہم ا۔ اس کے بغیر تو کھیل نہیں سج سکے گا۔

تالیہ انہارون بین الاقوامی قانون کی ایک معروف ماہر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ غیر معمولی صورت حال مین غیر معمولی اقدامات کی گنجائش ہوتی ہے اس لیے اسرائیلی پارلیمنٹ خسوصی فوجی عدالت کی حمایت کرتی ہے۔کیونکہ دہشت گردوں نے سات اکتوبر کو جو اسرائیلی ریاست کے ساتھ کیا ہے ہولوکاسٹ کے بعد اس طرح کا سنگین واقعہ کبھی نہیں ہوا تھا ۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

ان کے خیال میں اس مقصد کے لیے چند بڑے وکیلوں کی ضرورت ہوگی اور ان کے لیے بہترین سیکیورٹی کلیرنس لازمی ہوگی۔ نیز یہ کام فوج کے ذریعے لیا جائے۔
'بیجن انسٹیٹیوٹ آف لاء اینڈ زائینوازم ' نے فوجی طریقہ کار کے علاوہ ایک اور مقالمے میں فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ گوانتا نامو بے میں دہشت گردوں کے لیے جس طرح کا عدالتی بندو بست امریکہ نے کیا تھا یہ ایک اچھا نمونہ ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ طے ہے کہ گرفتار کیے گئے فلسطینیوں اور جنگجووں کے بارے میں حتمی فیصلہ اسرائیلی حکومت اور اتارنی جنرل کو ہی کرنا ہے کہ ان کےساتھ کس طرح کا عدالتی برتاؤ کیا جائے۔ معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی وزارت انصاف نے اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی بھی بنادی ہے جو جائزہ لے گی اور سفارشات پیش کرے گی۔

سمچا روتھ مین اسرائیلی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کی سربراہ ہیں جو اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگجووں کو غیر قانونی اور غیر مراعات یافتہ قرار رہنے دینے کے لیے مقدمے کی سماعت کو چھوڑنا ہوگا۔ ۔ اس لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ اپنی توجہ کو اس نکتے سے نہ ہٹایا جائے کہ اسرائیل کے خلاف دوبارہ ایسے واقعات ہوں ، اگر یہ سماعت لمبی ہو گئی تو ہماری توجہ اصل مقصد سے ہٹ جائے گی۔ روتھ مین کامل بے رحمی سے نمٹنے کی حامی ہیں ا س لیے انہوں نے ایک بل بھی پیش کر رکھا ہے کہ جس کا مقصد ایسے کسی مقدمے میں حصہ لینے سے روکنا ۔

وہ کہتی ہیں ۔ ہم ان کا دفاع کیوں کریں ان کے دفاع کی قیمت کیوں ادا کریں۔ دوسرے ماہرین کہتے ہیں کہ اسرائیلی قوانین کافی ہیں اگر مدعا علیہان کو اچھا قانونی مشورہ ملتا ہے تو لے لیں۔ تل ابیب کی یونیورسٹی کی استاد یوو سپیر روتھ مین کے موقف کی حمایت نہیں کرتی ہیں۔ یونیورسٹی کی استاد کا کہنا ہے' سب ملزمان کو ایک منصفانہ ماحول ملنا چاہیے۔ ہر ایک کو جنگجو کا نام دے کر اسے غیر معینہ مدت کے لیے بند رکھنا درست نہیں ہو گا۔'

ہمیں قانون کی حکمرانی والی پرعزم ریاست کے طور پر اپنے وجود کی حفاظت کرنی ہے، انہوں نے مزید کہا 'جب کوئی ریاست اس طرح کے سانحے کا تجربہ کرتی ہے، تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کچھ بنیادی اقدار کو ترک کر دیتی ہے، اور ہم اس سے ہوشیار رہنا چاہتے ہیں۔

عوامی دفاع کے سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ' جنگجوؤں کو مضبوط قانونی نمائندگی کا حق دیا جائے،' وہ کہتے ہیں 'جب میں دفتر میں تھا، ہم نے عصمت دری کرنے والوں، قاتلوں اور دہشت گردوں کا دفاع کیا تھا' اسی طرح کئی قانونی ماہرین کہتے ہہیں کہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کو جس طرح نسل کشی کے الزام کا سامنا کرنا پڑا اس کے ہوتے ہوئے یہ سوچنا درست نہیں ہے۔

لیکن اسرائیل چاہتا ہے کہ اپنے سے ایک بار ظلم اور نسل کشی کا الزام دھونے کے لیے ایک اور ' ہولوکاسٹ' کا سہارا استعمال کر لے۔ اس کے لیے سوچ بچار ابھی جارہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا غزہ میں بمباری اور قبضے کے الزامات جن کا آج ایک بین الاقوامی عدالت نوٹس لے رہی ہے انہیں نمایاں کرنے کا کسی کو موقع دینا چاہیے یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں