اسماعیل ھنیہ غزہ پر مصری حکام سے بات چیت کے لیے قاہرہ میں ہیں: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مزاحمت کار گروپ حماس نے کہا کہ اس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ مصری حکام کے ساتھ بات چیت کے لیے منگل کو قاہرہ پہنچے۔ ثالثین نے اسرائیل کے ساتھ نئی جنگ بندی کے امکانات کو معدوم قرار دیا جس کے چند دن بعد وہ قاہرہ پہنچے ہیں۔

ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر میں مقیم حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ "مصری حکام کے ساتھ سیاسی صورتِ حال اور میدان کی صورتِ حال پر بات چیت کریں گے۔"

مزید کہا گیا، "وفد "جارحیت کو روکنے، شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے اور ہمارے فلسطینی عوام کے اہداف کو حاصل کرنے کی کوششوں پر بھی بات کرے گا۔"

گذشتہ ہفتے اسرائیل اور حماس کے مذاکرات کاروں کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود مصری، قطری اور امریکی ثالثین نے چار ماہ سے زیادہ کی مسلسل جنگ کو روکنے کی کوششوں میں کوئی پیش رفت نہیں کی۔

قطری وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے ہفتے کے روز میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں کہا، "گذشتہ چند دنوں کی بات چیت واقعی زیادہ امید افزا نہیں ہے۔"

ہفتے کے روز ایک بیان میں ہنیہ نے حماس کے مطالبات کی تجدید کی حالانکہ ان میں سے کچھ کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے "فریب" قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

ان مطالبات میں جنگ بندی، غزہ سے اسرائیلی انخلاء، علاقے کی اسرائیلی ناکہ بندی کا خاتمہ اور لاکھوں بے گھر فلسطینی شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں شامل ہیں۔

سات اکتوبر کو حماس کے غیر معمولی حملے کے نتیجے میں 1,160 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے جس کے جواب میں اسرائیل نے حماس کو تباہ کرنے کا عزم کیا ہے۔

حماس کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی جوابی کارروائی میں غزہ میں 29,195 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں