افغانستان کا مستقبل طے کرنے کے لیے دوحہ کانفرنس میں طالبان کی عدم شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

طالبان کی حکومت نے اقوام متحدہ کی میزبانی میں بلائی گئی کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا ہے، تاہم طالبان کی غیر حاضری میں اقوام متحدہ سمیت 25 کے قریب ملکوں نے شرکت کی ہے اور اقوام متحدہ نے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے یہ کانفرنس دوحہ میں بلائی گئی تھی۔ اقوام متحدہ نے طالبان کو بھی شرکت کی دعوت دی مگر طالبان کی طرف سے افغانستان کے اکیلے نمائندے کے طور پر شریک ہونے کے مطالبے کو اقوام متحدہ کی طرف سے قبول کرنے سے انکار کر دیا گیا کہ اس کا مطلب تو طالبان کی حکومت کو ایک جائز حکومت تسلیم کرلینا ہو گا۔

واضح رہے 15 اگست 2021 سے افغانستان پر طالبان کی حکومت ہے مگر اسے عالمی سطح پر ایک جائز حکومت کی سند نہیں دی گئی ہے ۔ اس سے قبل امریکی حمایت سے قائم اشرف غنی حکومت ہی عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے نزدیک آخری جائز افغان حکومت تھی۔

طالبان کے زیر انتظام کام کرنے والے افغان دفتر خارجہ نے اس دوحہ کانفرنس سے پہلے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا' بین الاقوامی برادری کے رویہ یکطرفہ طور پر عائد کیے جانے والے الزامات اور دباؤ کے ساتھ ہے۔'

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے طالبان کی طرف سے واحد نمائندہ بن کر دوحہ کانفرنس میں آنے سے انکار اسی لیے کیا کہ اس طرح طالبان ہی افغانستان کی جائز حکومت مان لینے کا تاثر بنے گا۔ نیز انہوں نے کہا ہے کہ اب اس کانفرنس کے بعد اقوام متحدہ ، اقوام متحدہ کے لیے ایک نمائدہ مقرر کرے گا جو زیادہ مؤثر انداز سے طالبان کے ساتھ رابطہ کاری کر سکے گا، تاہم بعد از کانفرنس ہونے والی اس پیش رفت پر طالبان نے اپنا ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ڈائریکٹر برائے ترقیاتی پروگرام نے کانفرنس میں طالبان کی عدم شرکت کو افسوسناک کہا ہے تاہم انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ 'وہ مستقبل میں شمولیت کے مواقع ملنے پر شریک ہوں گے۔' خیال رہے ڈائریکٹر کنی وگناراجہ ان دنوں افغانستان کے دورے پر ہیں۔

افغانستان جس کی بین الاقوامی برادری نے امداد بند کر رکھی ہے اور امریکہ نے خطیر رقم منجمد کر رکھی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس کی چار کروڑ تیس لاکھ کی آبادی کا دو تہائی حصہ بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے۔ اس کی ایک وجہ افغانستان میں طالبان کی طرف سے خواتین کی تعلیم کی اپروچ عالمی چلن سے ہٹی ہوئی ہونا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں