فلسطین اسرائیل تنازع

ڈبلیو ایچ او کی طرف سے غزہ کے ناصر ہسپتال سے بچوں سمیت 32 حساس مریضوں کا انخلاء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی ادارۂ صحت نے منگل کو کہا کہ اس نے غزہ کے ناصر ہسپتال سے انخلاء کا دوسرا مشن مکمل کر لیا ہے جس میں لڑائی کے دوران بچوں سمیت کل 32 نازک مریضوں کو اس مقام سے منتقل کر دیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے بتایا کہ خان یونس میں واقع غزہ کے دوسرے بڑے ناصر ہسپتال نے گذشتہ ہفتے ایک ہفتے کے محاصرے اور چھاپے کے بعد کام کرنا چھوڑ دیا۔

ڈبلیو ایچ او کے عملے نے کہا کہ ہسپتال کے ارد گرد کی تباہی "ناقابلِ بیان" تھی اور اس نے اندازے کے مطابق 130 بیمار اور زخمی مریضوں اور 15 طبی ماہرین کے لیے تشویش کا اظہار کیا جو اس جگہ کے اندر موجود ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر کہا، "ڈبلیو ایچ او ہسپتال میں رہ جانے والے مریضوں اور صحت کے کارکنان کی حفاظت اور صحت کے لیے خوفزدہ ہے اور خبردار کرتا ہے کہ بیماروں اور زخمیوں کی زندگی بچانے والی نگہداشت میں مزید رکاوٹیں زیادہ اموات کا باعث بنیں گی۔"

ادارے نے کہا، باقی مریضوں کو منتقل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس نے کہا کہ اس جگہ پر بجلی یا رواں پانی نہیں ہے اور طبی فضلے اور کوڑے کی وجہ سے یہاں "بیماریوں کی افزائش کا مقام بن رہا ہے"۔

فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام نے کہا کہ صورتِ حال "تباہ کن سطح" پر پہنچ چکی تھی اور اسرائیلی افواج نے مؤثر طریقے سے اس جگہ کو "فوجی بیرکوں" میں تبدیل کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا، وہاں کے پسماندگان کی زندگیوں کو براہِ راست خطرہ ہے۔

اسرائیل کہتا ہے کہ 2007 سے غزہ کو چلانے والا مزاحمت کار گروپ حماس ہسپتالوں کو کور کے لیے استعمال کرتا ہے۔ حماس اس کی تردید کرتی اور کہتی ہے کہ اسرائیل کے الزامات صحت کی نگہداشت کے نظام کو تباہ کرنے کا بہانہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں