اسرائیلی پارلیمنٹ فلسطینی ریاست کے لیے نیتن یاہو کے انکار کی حمایت میں متحد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل جس کے تصور سے لے کر اس کے قیام کے لیے قراراداد اقو ام متحدہ تک اور بعد ازاں عرب دنیا کے ساتھ ٹرمپ کے ابراہم معاہدے سمیت ہر چیز باہر سے اسرائیل کو دی گئی اس اسرائیل کی پارلیمنٹ اپنے متنازعہ وزیر اعظم کے ساتھ یکجان ہو کر کھڑی ہو گئی ہے کہ فلسطینی ریاست کا فیصلہ باہر کے کسی ملک یا فورم کی طرف سے قبول نہیں کریں گے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے اس سلسلے میں چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی فلسطینی ریاست کے حق میں یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کر گا نہ ایسی فلسطیی ریاست کو قبول کرے گا جو اسرائیلی اور فلسطینیوں کی باہمی اتفاق کا نتیجہ نہ ہو ۔

بدھ کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ نے حکمران اتحاد اور اپوزیشن کی تفریق کو ختم کرتے ہوئے متحد ہو کر نیتن یاہو کے اس موقف کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم پارلیمنٹ میں کل 120 قانون ساز ہیں اور ان میں سے 99 نے نیتن یاہو کی حمایت میں ووٹ دے دیا ہے کہ یکطرفہ فلسطینی ریاست قبول نہیں ہے۔ بیان کے مطابق یہ موقف اس ہفتے پہلے کابینہ نے اختیار کیا اب پارلیمنٹ نے اس کی حمایت کر دی ہے۔

اپوزیشن کی طرف سے بھی کہا گیا ہے کہ صرف اسی کو فیصلے اور معاہدے کو مستقل طور پر اختیار کیا جا سکتا ہے جو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آیا ہو، نہ کہ بین الاقوامی براداری کی کے کسی حکم یا فیصلے کے طور پر۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں