اسرائیل یرغمالوں کی رہائی کے لیے کوئی قیمت ادا نہیں کرے گا: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر مالیات، بیزلیل سماٹریچ نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں اب تک قید یرغمالوں کی واپسی کے لیے کوئی قیمت ادا نہیں کرے گا، جبکہ غزہ میں یرغمالوں کی رہائی کے لئے مزاکرات جاری ہیں۔

جب ان سے غزہ میں باقی رہ جانے والے 134 یرغمالوں کے بارے میں پوچھا گیا تو وزیر مالیات، اسماٹرچ نے kan ریڈیو کو بتایا کہ ’’ان کی واپسی بہت اہم ہے لیکن یہ کہ ان کی رہائی کے لیے کوئی بھی قیمت ادا نہیں کی جا سکتی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی رہائی کا طریقہ یہ ہے کہ غزہ پر فوجی دباؤ کو بڑھایا جائے اور محصور پٹی میں حکومت کرنے والے مسلح گروپ حماس کو شکست دی جائے ۔

ان کے بیانات پر حزب اختلاف کے راہنما یائرلیپڈ اور وزیر بینی گانٹز کی جانب سے سرزنش کی گئی اور یرغمالوں کے کچھ خاندانوں نے برہمی کا اظہار کیا جوحکومت پر کوئی معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ریڈیو انٹرویو کے کچھ ہی دیر بعد وزیرا عظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا جو اسموٹریچ کے موقف کی تائید کو ظاہر کر رہا تھا۔

نیتن یاہو نے کہا ،”اسرائیل پر اندرون ملک اور بیرون ملک سے یرغمالوں کی رہائی کے لیے کسی بھی قیمت پر کسی معاہدے سمیت، اپنے مقاصد کے حصول سے پہلے، جنگ بند کرنے کے لیے بہت زیادہ دباؤ ہے۔ ہم کوئی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یقینی طور پر خام خیالی پر مبنی وہ قیمت نہیں جس کا حماس ہم سے مطالبہ کرتا ہے، جس کا مطلب اسرائیل کی ریاست کے لیے شکست ہوگا۔‘‘

یہ تبصرے ایسے میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ، قطر میں ،امریکہ، مصر، اسرائیل اور قطر کے درمیان ان مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے جن کا مقصد جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کے لیے ثالثی ہے، مشرق وسطیٰ کے امور سے متعلق اپنا سفیر خطے میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ سات اکتوبر کو اس کے قصبوں پر عسکریت پسند تنظیم حماس کے حملے کے دوران 1,200 کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئےاور 253 کو اغوا کر کے غزہ لے جایا گیا تھا۔

غزہ میں فلسطینی عہدہ داروں کے مطابق، اس کے بعد سے، اسرائیل کی فضائی، زمینی اور سمندری کارروائیوں میں تقریباً 29 ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، مزید ہزاروں ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، اور محصو ر شہر کا بیشتر حصہ کھنڈر بن گیا ہے ۔

یرغمالوں کی اب تک کی سب سے اہم رہائی نومبر میں گفت وشنید کے بعد جنگ میں ہونے والے ایک ہفتےکے اس وقفے کے دوران ہوئی تھی ،جب حماس نے اپنے پاس قید 110 اسرائیلیوں اور غیر ملکیوں کو رہا کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں