امارات کا نام ' ایف اے ٹی ایف ' کی 'گرے لسٹ' سے نکلنے کا امکان : ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات کانام ' ایف اے ٹی ایف ' کی ' گرے لسٹ ' سے اسی ہفتے نکلنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ فرانس میں 'فنانشل ٹاسک فورس' کے امور سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے ' ٹاسک فورس کے معائنہ کرنے والوں نے ماہ جنوری میں موقع پر جا کر چیزوں کا جائزہ لیا ہے۔ اس کے نتیجے نوٹ کیا گیا ہے ہے امارات نے کئی چیزوں میں پیش رفت کی ہے۔ ' تاہم معاملے سے آگاہ افراد نے اس بارے میں اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

ان ذرائع کے مطابق ' متحدہ عرب امارات کے لیے 23 فروری کو فہرست سے باہر آنے کی امید ہے، واضح رہے 23 فروری پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کا آخری دن ہے لیکن ابھی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

اس سے قبل بلومبرگ کی ماہ اکتوبر میں سامنے انےوالی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا ' ایف اے ٹی ایف' کے کم از کم تین رکن ممالک کے مندوبین، جنہوں نے اس سے پہلے متحدہ عرب امارات کی سخت نگرانی کے لیے حمایت کی تھی۔ اب فروری 2024 کے اوائل میں ہی امارات کا نام نکالنے کی حمایت کر رہے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کے سابق ایگزیکٹیو سیکرٹری ڈیوڈ لیوس کا اس سلسلے میں کہنا ہے ' آخری مرحلے تک پہنچنا اور فہرست سے نکل پانا ضروری نہیں کہ حتمی ہو گیا ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ' ایف اے ٹی ایف' مزید مطالبات بھی کر سکتا ہے۔ مزید کام کی طرف اشارہ کر سکتا ہے جو کرنے کی ضرورت ہے۔'

واضح رہے کسی ملک کا نام جب ' گرے لسٹ' میں شامل ہو جاتا ہے تو اسے اس سے نکلنے کے لیے ' ایف اے ٹی ایف' کے ارکان کی قابل ذکر حمایت کی ضرورت ہو گی۔

پچھلے سال کے آخر میں، متحدہ عرب امارات کے حکام نے 'ایف اے ٹی ایف' کی اہم ریاستوں کے دورے پر گئے تھے، جن میں امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور سنگاپور کے دورے بھی شامل تھے، تاکہ حمایت ریلی کریں۔ بلومبرگ نے رپورٹ کیا کہ غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ بات چیت میں روسی پابندیوں کی خلاف ورزی اور کرپٹوکرنسی مرکزی حیثیت اہم تھی۔

ایک ذمہ دار نے کہا 'متحدہ عرب امارات غیر قانونی مالیات کا مقابلہ کرنے اور بین الاقوامی بہترین طرز عمل کے مطابق، ہمارے قومی نظام کی تاثیر کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔' تاہم ' فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ' کے ترجمان نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔

واضح رہے متحدہ عرب امارات کا نام ابتدائی طور پر مارچ 2022 میں بڑھتی ہوئی نگرانی کے تحت دائرہ اختیار کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اب اس سے نکلنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں