فلسطین اسرائیل تنازع

حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کی ڈیل میں پیش رفت کی امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی تنظیم حماس اور اسرائیل کےدرمیان قیدیوں کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں بار بار تعطل کے بعد اب کسی نئی ڈیل مایوسی کے گہرے بادلوں میں ڈھک چکی ہے۔ تاہم کئی ہفتوں میں پہلی بارگذشتہ رات اسرائیل میں حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر مذاکرات میں پیش رفت کے امکان کے بارے میں محتاط امید کے آثار نظر آئے۔

اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ کے مطابق باخبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ نئی امریکی کوششوں کے نتیجے میں ایک تبدیلی واقع ہوئی ہے جس نے ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز کی قیادت میں رابطوں میں پیش رفت کو آگے بڑھایا۔ رابطوں کے اس عمل میں امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے امور کے مشیر بریٹ میک گرک نے کردار ادا کیا۔

اسماعیل ھنیہ کی مصر میں موجودگی

یہ معمولی امید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حماس کا ایک وفد کل منگل کو قاہرہ پہنچا ہے۔ اس وفد کی سربراہی تحریک کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کر رہے ہیں۔

توقع ہے کہ وہ آج بدھ کو مصری انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ باضابطہ بات چیت کریں گے۔

قیدیوں کی فائل اور جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح پر متوقع اسرائیلی حملے کے بارے میں بات کرنے کے لیے میک گرک آج مصر کا بھی دورہ کریں گے۔

حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ
حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ

حماس نے حالیہ عرصے کے دوران بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گی جس میں غزہ میں مکمل جنگ بندی اور پٹی سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلاء شامل نہ ہو۔

دریں اثناء اسرائیل نے رفح پر اپنا حملہ روکنے کے بدلے میں 7 اکتوبر سے زیر حراست تمام قیدیوں کو رہا کرنے کی شرط رکھی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا آخری معاہدہ گذشتہ نومبر (2023ء) کے اواخر میں ہوا تھا اور اس کے بعد 7 اکتوبر کو حماس کے زیر حراست 100 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 300 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

جبکہ 132 اسرائیلی قیدی غزہ میں موجود ہیں جن میں سے 29 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں