حوثیوں کی دفاعی صلاحیتیں ان کی اپنی حاصل کردہ اور مقامی ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثی باغیوں کوفوجی امداد دینے کی سابقہ امریکی دعووں کے باوجود خاص طور پر بحیرہ احمرمیں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد ایران نے ایک بار پھر یمنی گروپ کی مدد کی تردید کی ہے۔

ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہتھیاروں اور آلات کے میدان میں حوثیوں کی صلاحیتیں مکمل طور پر مقامی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شام اور عراق میں مسلح دھڑوں اور لبنان میں حزب اللہ کے حوالے سے خطے کے بیشتر ممالک جہاں "مزاحمتی محاذ" کہلاتے ہیں، وہ اعلیٰ تکنیکی، پیداواری اور صنعتی صلاحیتوں تک پہنچ چکے ہیں۔

"ناکامی چھپانا"

ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں علم اور سائنسی مہارت کی منتقلی کی کوئی حد نہیں ہے۔ ان کا خیال تھا کہ "بعض مغربی ممالک کے ان کے ملک کے خلاف خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ کے الزامات کا مقصد یمنی حوثی گروپ کی عسکری قوت جو کمزور کرنا ہے اور اسے اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے پر سزا دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حوثیوں کے خلاف امریکی، برطانوی اور مغربی ممالک کے حملے اپنی ناکامی پرپردہ ڈالنے کی کوشش ہیں۔

بحیرہ احمر میں کارگو جہاز
بحیرہ احمر میں کارگو جہاز

انہوں نے نشاندہی کی کہ اگر واشنگٹن اور لندن بحری حملوں اور جہاز رانی کے معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی کے قیام میں مدد کرنی چاہیے۔

متنوع ہتھیار

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تازہ ترین امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایران نے حوثیوں کو متنوع اور بڑے ہتھیار فراہم کیے ہیں، جن میں مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ ساتھ کروز میزائل بھی شامل ہیں۔

بحیرہ احمر میں حوثیں کے گزشتہ حملے کا منظر
بحیرہ احمر میں حوثیں کے گزشتہ حملے کا منظر

انٹیلی جنس نے تصدیق کی کہ یہ تعاون 2015 میں شروع ہوا اور اب بھی جاری ہے۔

تاہم حالیہ مہینوں میں اس ایرانی حمایت کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے، خاص طور پر بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں میں اضافے نے ایران کی طرف سے حوثیوں کی مبینہ مدد کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں