سعودی عرب :سرکاری ملازمین کے لیے کام کی جگہوں پر ’بشت‘ پہننا لازمی قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی حکومت کی طرف سےجاری کردہ ایک سرکاری سرکلر میں کام کی جگہوں میں داخل ہونے اور نکلنے اور سرکاری تقریبات میں شرکت کے دوران بعض گروہوں کے لیے مشلح (بشت) پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بشت ایک پوشاک ہے جسے سعودی عرب میں دفتری اوقات میں پہنا جاتا ہے اور مملکت میں اس کی ثقافتی اہمیت بھی ہے۔

وکیل اور قانونی مشیر بندر العمودی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ سرکلر کی ایک کاپی ہر وزارت اور سرکاری محکمے کو دی گئی ہے۔

سرکلرکے تحت کام کی جگہوں میں داخل ہونے اور باہر نکلتے وقت اور سرکاری تقریبات میں شرکت کے دوران وزراء، وزیر کے عہدے کے حامل اعلیٰ افسران، سینیر عہدیداران، وزراء کے معاونین، نائب وزراء، اسکیل پندرہ اور اس سے اوپر کے افسران،آزاد ایجنسیوں کے سربراہان اور ان کے نائبین، گورنرز اور ان کے نائب اور انڈر سیکرٹریز کےلیے بشت پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

شوریٰ کونسل کے ارکان، وکلاء اور پراسکیوٹرز

سرکلر میں اس بات کی بھی توثیق کی گئی ہے کہ شوریٰ کونسل کے ارکان داخل ہونے اور باہر نکلتے وقت اور کونسل کے اجلاسوں کے دوران "بشت" پہننے کے پابند ہیں۔ جج عدالتوں میں داخل ہوتے اور باہر نکلتے وقت اور مقدمے کی سماعت کے دوران بشت لازمی پہنیں گے۔

سرکلرمیں پبلک پراسیکیوشن کے پراسیکیوٹر، نگران اور انسداد بدعنوانی اتھارٹی کے پراسیکیوشن یونٹ کے ملازمین اور وکلاء کے لیے عدالتوں میں داخل ہونے اور نکلتے وقت اور کیس کی سماعت کے دوران "بشت" لازمی قرار دی گئی ہے۔

وزارت اطلاعات، مانیٹرنگ اتھارٹی اور انسداد بدعنوانی اتھارٹی اس حوالے سے کسی بھی لا پرواہی اور غفلت کی نگرانی اور اسے درست کرنے اور ضروری اقدامات کرنے کی ذمہ دار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں