صدام کی پھانسی کا طریقہ ذلت آمیز تھا، ان کی لاش قبر سے نکالی گئی ہوگی: ہوشیار زیباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے مرحوم صدر صدام حسین کی پھانسی کو اگرچہ 18 سال گزر چکے ہیں، لیکن ان کی لاش اور تدفین کے مقام کے بارے میں اب بھی بہت سے اسرار ہیں۔ اسی بارے میں بات کرتے ہوئے ، عراق کے سابق وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے 30 دسمبر 2006 کو عید الاضحی کے موقع پر صدام کی پھانسی کے طریقہ کار اور وقت پر تنقید کرتے ہوئے اسے شرمناک اور ذلت آمیز قرار دیا۔

اخبار شرق الاوسط سے بات کرتے ہوئے سابق عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے کہا کہ "سابق عراقی صدر صدام حسین کو پھانسی دینے کا طریقہ شرمناک تھا اور ان سے وہ سلوک کیا گیا جس کے وہ مستحق نہیں تھے۔"

انہوں نے مزید کہا: "میں نے اس معاملے کی پیروی کی۔ تاہم ، میں صدام حسین سے نہیں ملا۔ میں ان لوگوں میں سے ایک ہوں جنہیں صدام نے ذاتی طور پر نقصان پہنچایا تھا کیونکہ انہوں نے میرے تین بھائیوں کو سیاسی دشمنی میں قتل کیا تھا۔

"ان تمام جرائم کے باوجود جن کے لیے ان پر مقدمہ چلایا گیا تھا، ان کی پھانسی کا طریقہ اور وقت واقعی شرمناک تھا۔"

انہوں نے کیا کہ ان کے خلاف اس طرح اور اس گھناؤنے طریقے سے انتقام لینا کوئی شائستہ یا عمدہ طریقہ نہیں تھا۔ ہاں، بہت سے لوگوں پر اس کا اثر یہ ہوا کہ یہ غیر منصفانہ یا غداری ہے۔ ایسا ہی تاثر ہے۔"

سابق وزیر نے صدام حسین کی لاش کے مقام کے بارے میں بتایا کہ "جب انہیں پھانسی دی گئی تو ان کے رشتہ داروں اور چاہنے والوں نے تکریت میں تدفین کے لیے لاش وصول کرنے کی درخواست کی، اس وقت منظوری آگئی، لیکن پھر کئی کہانیاں اور بیانات سامنے آئے۔ "

انہوں نے مزید کہا: "ایمانداری سے، میں اس بات کی تردید یا تصدیق نہیں کر سکتا کہ وہ اب بھی وہاں ہے یا کوئی مزاحمتی گروہ آیا یابعث پارٹی والے اسے لے گئے ہوں۔ اس بارے میں ایسی رپورٹیں ہیں ۔"

انہوں نے کہا کہ "صدر صدام کی بیٹی رغاد کا یہی خیال ہے ۔ لیکن حقیقت میں نہیں جانتا۔"

قابل ذکر ہے کہ 20 مارچ 2003 کو امریکی صدر جارج بش نے "آپریشن عراقی فریڈم" کے آغاز کا اعلان کیا تھا جس میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے بہانے تقریباً 150,000 امریکی فوجی اور 40,000 برطانوی فوجی عراقی سرزمین پر تعینات کیے گئے تھے۔

9 اپریل 2003 کو بش نے بعثی حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا اور عراقی صدر صدام حسین 8 ماہ کے لیے غائب رہے۔ بعد میں انہیں امریکی افواج نے ڈھونڈ نکالا، اور پھر 30 دسمبر 2006 کو عید الاضحی کی صبح انہیں پھانسی دے دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں