فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں امداد لے جانے والے ’اونروا‘ کےقافلے پر اسرائیلی حملے کے ثبوت سامنے آگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کو موصول ہونے والی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شمالی غزہ میں امدادی قافلوں کےداخلے کو روکے جانے سے قبل اسرائیلی فوج نے’اونروا‘ کے ایک امدادی قافلے کو نشانہ بنایا تھا۔ اس قافلے میں خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کا سامان تھا۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی’اونروا‘ کی طرف سےجاری کی گئی رپورٹ ’سی این این‘ کی ویب سائٹ پر بھی شائع کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امدادی قافلے کو اسرائیلی فوج کی ایک چوکی پر رکے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ قافلہ آدھا گھنٹہ وہاں رکا جہاں سے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

اس حملے میں امدادی قافلے میں موجود لوگوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن زیادہ تر امدادی سامان جس میں گندم کا آٹا اور دیگر بنیادی ضروریات کی اشیاء تھیں تلف ہوگئی تھیں۔

’سی این این‘ نیٹ ورک کی ترجمان جولیٹ ٹوما نے کہا کہ شمالی غزہ جانےوالے اس قافلے میں خوراک کا سامان تھا۔ اسرائیلی نیوی کی طرف سے اس امدادی قافلے کے ٹرکوں کو نشانہ بنایا گیا۔

قافلے میں تقریبا 10 ٹرک شامل تھے اور ان کے ساتھ اقوام متحدہ کی دو بکتر بند گاڑیاں آ رہی تھیں۔ یہ قافلہ پانچ فروری کی صبح کو غزہ میں داخل ہوا تھا۔

’اونروا‘ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے خطرے سے بچنے کے لیے امدادی قافلہ صبح صبح شمالی غزہ کی برف روانہ کیا گیا تھا۔

غزہ میں ’اونروا‘ کے ڈائریکٹر تھامس وائٹ نے کہا کہ امدادی قافلے کو شمالی غزہ کی طرف جاتے ہوئے پانچ فروری کو اسرائیلی بحریہ نے حملے کا نشانہ بنایا تھا۔

اونروا غزہ سے
اونروا غزہ سے

امدادی ایجنسی ’اونروا‘ کے کمشنر جنرل فیلپ لازارینی نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطوں اور خطرے کی تنبیہات کے باوجود امدادی قافلوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جانا افسوسناک ہے۔

خیال رہے کہ سات اکتوبر کو اسرائیلی فوج نے اس وقت غزہ پر وسیع جنگ مسلط کی تھی جب حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کرکے 1200 افراد کوموت کے گھاٹ اتار دیا اور 250 کو زندہ گرفتار کرکے غزہ منتقل کردیا تھا۔

اسرائیل کی طرف سے جوابی طورپر شروع کی گئی جنگ میں تیس ہزار سے زائد فلسطینی اپنی جانی گنوا بیٹھے ہیں جب کہ ستر ہزار کے قریب زخمی ہیں۔ غزہ کا پورا علاقہ کھنڈر بن چکا ہے اور دو ملین کے قریب لوگ بے گھر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں