وصیت کے مطابق تدفین سے قبل پروفیسر کی لاش کا اردن یونیورسٹی کا ’طواف‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن میں ایک سائنسدان اور فیکلٹی میں نامیاتی کیمسٹری کے پروفیسر ڈاکٹر مصطفیٰ العبادلہ کی وفات کے بعد ان کی وصیت کے مطابق ان کا جنازہ یونیورسٹی آف اردن کی سڑکوں پر گھوما گیا۔ جنازے کا یہ جلوس کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ سے شروع ہوا اور یونیورسٹی کی سڑکوں سے ہوتے ہوئے قبرستان میں ان کی آخری آرام گاہ تک پہنچایا گیا۔

اپنی موت سے قبل اردن کے پروفیسر العبادلہ نے اس مقام سے لگاؤ، اساتذہ کے احترام اور علمی قابلیت کی وجہ ان کی لاش کو اردن یونیورسٹی کی راہ داریوں سے گذارنے کی وصیت کی تھی۔

مرحوم سائنسدان کون ہیں؟

مرحوم العبدلہ نامیاتی کیمسٹری کے شعبے میں ایک نامور عرب سائنسدان تھے۔ان کی پیدائش 1934ء میں ہوئی تھی اور ان کی عمر 90 سال تھی۔ انہوں نے اپنے تعلیمی کیرئیر کا آغاز 1968ء میں اردن یونیورسٹی سے کیا۔

انہوں نے آرگینک کیمسٹری کے شعبے میں مہارت حاصل کی، جہاں انہوں نے اس شعبے میں نمایاں سائنسی خدمات انجام دیں۔انھوں نے 1967ء میں برطانیہ کی مانچسٹر یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

مرحوم العبدلیہ نامیاتی
مرحوم العبدلیہ نامیاتی

اس کا علمی اور تدریسی کیریئر پانچ دہائیوں سے زیادہ پر محیط تھا۔اس کے دوران انہوں نے ممتاز سائنسی جرائد میں 100 سے زیادہ سائنسی مقالے شائع کیے، ان کی تحقیق میں بنیادی طور پر ہیٹروسائکلک رد عمل، انزائمز کی بائیو کیمسٹری اور آرگنومیٹالک کیمسٹری پر توجہ مرکوز کی گئی۔

ان کی سب سے قابل ذکر کامیابیوں میں سائیکلک نامیاتی مرکبات کی ترکیب کے لیے نئے طریقوں کی ترقی، میٹابولک عمل میں کردار ادا کرنے والے نئے خامروں کی دریافت اور نامیاتی مرکبات کے ساتھ منتقلی دھاتوں کے تعامل کا مطالعہ شامل ہیں۔

اردن یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر نذیر عبیدات نے پروفیسر العبادلہ کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ ان کی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ "مرحوم نے ایک اچھا تعلیمی کیریئر چھوڑا اور اردن یونیورسٹی کی ترقی پر گہرے اثرات مرتب کیے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر العبادلہ اردن اور پوری عرب دنیا کے لیے ایک گراں قدر علمی سرمایہ تھے۔ ان کا انتقال علمی اور سائنسی حلقوں کے لیے ایک سانحے سے کم نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں