’سڑکوں پر کھڑے ہو کر سینڈوچ فروخت کرنا بہت مشکل کام ہے‘:تغریدعطیہ

ساٹھ پاؤنڈ سے سینڈوچ بنا کر فروخت کرنے والی فلسطینی لڑکی عطیہ کی زندگی کے نشیب وفراز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی نژاد ایک مصری چھتیس سالہ لڑکی کے مصر کی سڑکوں پر راہ گیروں کو سینڈوچ فروخت کرنے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ نے اس خاتون کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کی ہیں۔

چھتیس سالہ تغرید عطیہ کے والد فلسطینی ہیں اور والدہ مصری ہیں۔ عطیہ مصر کی بور سعید گورنری میں پیدا ہوئی۔ عطیہ دو بچوں ملک[بیٹی] اور یوسف [بیٹے] کی ماں ہیں مگر اس کی شوہرسے علاحدگی ہو چکی ہے۔

تغرید عطیہ شوہر کی علاحدگی کے بعد بچوں کے نان نفقے کا کیس لڑ رہی ہے۔ اسے کیس لڑنے کے لیے قاہرہ سے بور سعید آنا پڑا مگر اس کے پاس اس مقدمے کے اخراجات اور بچوں کی کفالت کےلیے مالی وسائل نہیں تھے۔ وہ خالی جیب قاہرہ سے بور سعید پہنچی۔

’العربیہ مصر‘ سے گفتگو کرتے ہوئے عطیہ نے بتایا کہ ’میں نے علاحدگی کے بعد سوچا کہ مجھے بچوں کے نفقے کا کیس بھی لڑنا ہے اور اس کیس کے اخراجات بھی پوری کرنا ہیں۔ میرے پاس پیسے نہیں تھے مگر میں نے ہمت نہیں ہاری۔ میں نے سوچا کہ مجھے ہر صورت میں یہ کیس لڑنا ہے‘‘۔

دادی کے نام میں غلطی مصری شہریت کی راہ میں رکاوٹ

تغرید عطیہ نے وضاحت کی کہ اس نے مصری شہریت حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی دادی کے نام میں غلطی کی موجودگی کی وجہ سے وہ ابھی تک مصری شہریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

تغرید نے مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ اس کے پاس صرف 60 مصری پاؤنڈ تھے۔ اس رقم سے اس نے پنیر اور کچھ دوسری چیزیں خرید کیں اور سینڈوچ بنا کر اسے سڑکوں پر فروخت کرنا شروع کیا۔

اس نے مزید کہا کہ "سڑک پر سینڈوچ لے کر کھڑا ہونا بہت مشکل ہے۔ شروع میں سینڈوچ فروخت نہیں ہوتے تھے اور وہ اکتا جاتی تھی"۔

تغرید نے کہا کہ لوگ اس کی حمایت کررہے ہیں اور اس کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں