22 فروری: سعودی عرب کے ’یوم تاسیس‘ سے متعلق ہم کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تین صدیاں پیشتر 22 فروری 1139ھ بہ مطابق 1727ء کو امام محمد بن سعود کے ہاتھوں پہلی سعودی مملکت کا قیام عمل میں آیا۔ یہ پہلی سعودی ریاست اگرچہ محدود تھی اور موجودہ وسیع وعریض مملکت کے شہر درعیہ پر مشتمل تھی۔ اس کے بعد یہی شہر ایک عظیم الشان سعودی مملکت کی بنیاد بنا۔

اسی تاریخ کی نسبت سے سعودی عرب کا ’یوم تاسیس‘ قرار دیا جاتا ہے۔ الدرعیہ کے سلطان مانع المریدی موجودہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کی نسل کے 13ویں جد امجد ہیں۔ اس طرح آل سعود خاندان چھ سو سال سے اس علاقے کا حکمران چلا آ رہا ہے۔

بانی مملکت [ امام محمد بن سعود] کا تذکرہ کیے بنا مملکت کی تاسیس کی بات ادھوری رہے گی۔ انہوں نے اپنے دور امارت میں حالات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور اطراف کی حکومتوں بالخصوص جزیرہ عرب کے انتظامی حالات کا بھی جائزہ لیا۔

امام محمد بن سعود نے مروجہ مگر محتاط اندازمیں اپنی مملکت کی توسیع کی منصوبہ کی۔

اس طرح امام محمد بن سعود نے خطے میں ایک نئے کلچر کی بنا ڈالی جس میں ثقافت، تعلیم اور وحدت کےاقدار کو اولین مقام حاصل تھا۔ ان کی ایک خوبی افراد اور معاشرے کے درمیان ربط اور تعلق کو مضبوط بنانا اور علاقائی سالمیت کو مضبوط کرنا تھا۔ وہ تدبر اور تفکر سے محبت کرتے تھے۔ یہ خوبیاں ان کی شخصیت کے استحکام، نگہداشت اور مستقبل کے وژن کا ثبوت ہیں۔

امام محمد بن سعود کون ہیں؟

امام محمد بن سعود بن محمد بن مقرن 1090ھ بہ مطابق 1679ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے الدرعیہ میں پرورش پائی۔ دین داری، جذبہ خیر، محبت، بہادری اور اثر ورسوخ کی خصوصیات سے متصف امام محمد بن سعود ایک نیا قائد بننے کی تمام تر خوبیاں اپنے اندر پروان چڑھا رہے تھے۔

جب درعیہ کا انتظام وانصرام امام محمد سعود کے ہاتھ میں آیا تو انہوں نے اسلاف سے پائی میراث کا نہ صرف دل جان سے تحفظ کیا بلکہ اس کی سرحدوں کو مزید وسعت دی۔ انہوں نے درعیہ کو اپنے دور کی ایک جدید ریاست میں تبدیل کیا۔ انہوں نے 1139ھ بہ مطابق 22 فروری 1727ء کو غیر معمولی حالات میں الدرعیہ کا اقتدار سنھبالا۔

زمام اقتدار ہاتھ میں لینے سے قبل درعیہ کئی اسباب کی بناء پر انتشار کا شکار تھا اور طاعون کی وبا نے پورے جزیرۃ العرب کی طرح الدرعیہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ بڑی تعداد میں لوگ اس موذی بیماری سے جان کی بازی ہار چکے تھے۔

امام محمد بن سعود کے 1139ھ سے 1158ھ بہ مطابق 1727ء سے1727ء تک کے دور حکومت کے بڑے فیصلوں میں الدرعیہ کے دونوں حصوں کو متحد کرنا شامل تھا۔ انہوں نے اندرونی معاشی، سلامتی اور سماجی بہبود اور ترقی کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے۔

انہوں نے الدرعیہ میں سمحان کے نام سے ایک نئی کالونی تیارکی جسے بعد میں الطرفیہ کام نام دیا گیا۔ طویل عرصے تک اپنے حکومتی دفتر غصیبہ کے بعد امام محمد بن سعود نے سمحان کالونی کو نیا حکومتی ہیڈ کواٹر بنایا۔ بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے اور جزیرہ عرب کے لشکروں کو روکنے کے لیے امام محمد بن سعود نے الدرعیہ کے گرد ایک فصیل بھی بنوائی۔ اس دور میں درعیہ کے خطے میں امن او استحکام میں امام محمد بن سعود نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

الدرعیہ کو متحد کرنے کی مہمات کا آغاز

امام محمد بن سعود نے 1159ھ سے 1179ھ بہ مطابق 1746ء سے 1765ء کے دوران الدرعیہ کو متحد کرنے اور اس کی حدود کا دائرہ وسیع کرنے کی مہمات کا آغاز کیا۔

ان مہمات میں انہوں نے حجاج کرام کے قافلوں اور تجارتی قافلوں کے راستوں کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

الدرعیہ ریاست کے قیام اور 40 سال تک اس پر حکومت کرنے کے بعد امام محمد بن سعود 1179ھ بہ مطابق 1765ء میں انتقال کر گئے۔ ان کے پسماندگان میں بیٹوں عبد العزیز، عبد اللہ، سعود، فیصل، علی، مرخان اور بیٹیوں میں ھیا اور طرفہ شامل تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں