اردن اور برطانیہ نے مشترکہ طور پر غزہ میں جہاز سے طبی سامان گرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن اور برطانیہ نے غزہ میں شمالی غزہ میں موجود ہسپتال تل الحوا کے لیے ہوائی جہاز کے ذریعے 4 ٹن طبی امداد کے تھیلے گرائے ہیں۔ شاہ عبداللہ کے حالیہ دورہ برطانیہ کے دوران برطانوی وزیراعظم نے غزہ کے زیر محاصرہ فلسطینیوں کو طبی امداد دینے کے آئیڈیا کو بہت سراہا تھا۔

اس سے پہلے اردن نے اپنے طور پر غزہ میں اردن کے زیر انتظاام چلنے والے ہسپتال کے لیے جہاز کے ذریعے طبی امداد کے تھیلے گرائے تھے۔ ان میں ادویات اور طبی آلات کے علاوہ پانی کی بوتلیں کی سہولتیں موجود تھیں۔

وزیر خارجہ برطانیہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ طبی سامان جہازوں کے ذریعے گرانے سے ہزاروں مریضوں کو فائدہ ہوگا۔ واضح رہے غزہ میں تقریباً 70 ہزار کے قریب فلسطینی زخمی اس وقت علاج سے محروم ہیں جو اسرائیلی بمباری، گولہ باری یا گرائے گئے گھروں کے ملبے تلے آکر زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں بےشمار ایسے ہیں جو معذور ہوگئے ہیں یا جن کے اعضاء کاٹ دیے گئے ہیں۔

غزہ کے مسلسل اسرائیلی محاصرے میں ہونے کی وجہ سے فلسطینی مریضوں کی تعداد بھی ہزاروں سے زیادہ ہو رہی ہے کہ صاف پانی اور خوراک کی کمی کا شکار ہونے کی وجہ سے بچے اور بوڑھے بطور خاص مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔

اس صورتحال کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردہ جنگ بندی کی نئی قرارداد کو بھی منگل کو امریکہ نے بدقسمتی سے ویٹو کر دیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے دوسرے اداروں کی رپورٹس کو دیکھا جائے تو غزہ میں طبی امداد کے علاوہ غذائی امداد کی غیرمعمولی ضرورت ہے کہ وہاں اس وقت کم از کم 23 لاکھ فلسطینی بغیر چھت کے بےگھری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جن کو امدادی سامان ان کی ضروریات سے کہیں کم فراہم کی جا سکتی ہے کیونکہ اسرائیل نے غزہ کا مسلسل محاصرہ کر رکھا ہے۔ اسرائیل کی ان رکاوٹوں کی وجہ سے دو دن قبل خوراک کے عالمی پروگرام نے شمالی غزہ کے لیے اپنا امدادی سامان بھجوانا بند کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں