سعودی عرب اور مصر نے رفح میں اسرائیلی فوجی آپریشن دو ٹوک الفاظ میں مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح پر متوقع اسرائیلی حملے کے بارے میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش اور ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کی مصر میں سیناء کی طرف آمد کے خدشات کے درمیان سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ان کے مصری ہم منصب سامح شکری نے رفح میں کسی بھی اسرائیلی فوجی کارروائی کو دو ٹوک انداز میں مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ رفح میں اسرائیلی فوج کی چڑھائی کا مطلب ہزاروں بے لوگوں کا قتل اور وہاں پر جمع فلسطینیوں کوزبردستی نقل مکانی پرمجبور کرنا ہے۔

غزہ پر حملے کی دوٹوک مخالفت

مصری وزارت خارجہ نے اپنے ’فیس بک‘ پیج پر ایک بیان میں کہا ہے کہ برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقدہ جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں دونوں وزراء کی شرکت کے موقع پر فریقین نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شکری نے شہزادہ فیصل کے ساتھ عرب گروپ کے فریم ورک کے اندر اور غزہ کے بحران کو کم کرنے کے لیے کثیرالجہتی کارروائی کی سطح پر ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

اپنے سعودی ہم منصب سے ملاقات کے دوران مصری وزیر نے اس قانونی اور انسانی ذمہ داری پر بھی زور دیا جو بین الاقوامی فریقین غزہ کی پٹی کے خلاف جنگ کو روکنے اور فوری جنگ بندی کے حصول کے لیے اٹھاتے ہیں۔

شکری نے کل بدھ کو منعقدہ اپنے اجلاس میں امریکی ویٹو کے پس منظر میں جنگ بندی کی قرارداد جاری کرنے میں سلامتی کونسل کی بار بار ناکامی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد جاری کرنے میں ناکامی سے اس کے بین الاقوامی قوانین اور عالمی نظام کے طریقہ کار کی فزیبلٹی اور ساکھ پر سوالات اٹھتے ہیں۔

بیان کے مطابق شکری نے شہزادہ فیصل کے ساتھ غزہ کی صورتحال کے پس منظر میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بہ شمول بحیرہ احمر میں نیوی گیشن کی سلامتی کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔

دونوں وزراء نے پرامن کوششوں کی حمایت اور خطے میں تنازعہ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مختلف فریقوں کے ساتھ رابطے جاری رکھنے پر زور دیا۔

اسرائیل کی رمضان سے قبل رفح پر حملے دھمکی

قابل ذکر ہے کہ یہ ملاقات رمضان المبارک سے قبل یعنی چند ہفتوں کے بعد رفح پر حملہ کرنے کی اسرائیلی دھمکی کے بعد ہوئی ہے۔

اسرائیلی جنگی کابینہ کے رکن بینی گینٹزنے دو روز قبل تصدیق کی تھی کہ اگر اسرائیل نے رمضان تک حراست میں لیے گئے افراد کو واپس نہ کیا تو غزہ میں لڑائی رفح تک پھیل جائے گی۔

گینٹز اور وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کا خیال ہے کہ اگر رمضان المبارک تک قیدیوں کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوتا ہے تو اسرائیلی افواج کو رفح میں داخل کردیا جائے گا۔

مصر کی سرحد سے متصل اس گورنری میں تقریباً 1,400,000 فلسطینی پناہ گزین جمع ہیں، جہاں وہ خوراک اور طبی امداد کی کمی اور اسرائیل کی طرف سے آنے والے حملے کےخطرے میں مشکل حالات میں رہ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں