فلسطین اسرائیل تنازع

سعودی عرب کا G20 سربراہ اجلاس کے موقعے پر غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبد اللہ نے G20 گروپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے پہلے روز کل کو بدھ غزہ میں جاری جنگ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

یہ اجلاس برازیل کےشہر ریو ڈی جنیرو میں شروع ہوا جس میں ’جی ٹونٹی‘ گروپ سے وابستہ ممالک کی قیادت شرکت کررہی ہے۔

غزہ کی پٹی میں جاری تباہی ختم کرنے پر زور

سعودی وزیر خارجہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے برازیل کے وزیر برائے امور خارجہ مورو وئرا کو اس سال جی 20 اجلاس کی میزبانی کرنے پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عالمی تنازعات کے بڑھتے ہوئے خطرات اور پھیلاؤ کے نتیجے میں بین الاقوامی تعاون، کمزور ساکھ اور کثیرالجہتی فریم ورک پر اعتماد پر دباؤ پڑا ہے۔

انہوں نے عالمی سطح پر اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے بین الاقوامی اداروں کی وابستگی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ G20 پر غزہ کی پٹی میں ہونے والی تباہی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تاکہ علاقائی امن و خوشحالی کے ساتھ ساتھ عالمی معاشی استحکام کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرکے عالمی معاشی استحکام قائم کیا جا سکے۔

بن فرحان نے غزہ کی پٹی میں ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے جی 20 ممالک سے غزہ کی پٹی میں جنگ کو ختم کرنے کے لیے ممکنہ اقدامات کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا واحد قابل اعتماد راستہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

سعودی عرب نےسلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کرنے واشنگٹن کے اقدام پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد غزہ میں جاری خون خرابے کو روکنے میں مدد دےسکتی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں