فلسطین اسرائیل تنازع

قیدیوں کی رہائی سے متعلق نئی تجاویز، معمولی تبدیلی کے ساتھ حماس اپنے موقف پر قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کےتبادلے کے ممکنہ معاہدے میں پیش رفت کی اطلاعات کے بعد ایک نئے باخبر اسرائیلی ذریعے نے اس مسئلے کے حوالے سے تازہ انکشافات کیے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس نے جنگ بندی اور قیدیوں کےرہائی کے بارے میں وضع کردہ اپنے مطالبات اور شرائط میں کوئی بڑی لچک نہیں دکھائی۔

پیش رفت کے بغیر معمولی ایڈجسٹمنٹ!

ذرائع نے واضح کیا کہ توقع ہے کہ ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر بل برنز کل جمعہ کو پیرس جائیں گے، جہاں وہ قطری، مصری اور اسرائیلی حکام سے قیدیوں کی رہائی کے ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے اہلکار ماہ رمضان کے آغاز سے قبل یعنی 3 ہفتوں سے بھی کم وقت میں ایک معاہدے پر پہنچنا چاہتے ہیں تاکہ مقدس مہینے کے دوران عارضی جنگ بندی کو یقینی بنایا جا سکے۔

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قیدیوں کے مجوزہ معاہدے کے حوالے سے اب بھی بڑے خلاء موجود ہیں۔ واشنگٹن کی طرف سے پیش کی جانے والی موجودہ تجویز کم از کم 6 ہفتوں تک لڑائی کے خاتمے کا باعث بنے گی۔

سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ رہا کیے جانے والے فلسطینی قیدیوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف رائے اور پہلے مرحلے کے لیے فہرست کا تعین کیسے کیا جائے کہ تین مرحلوں پر مشتمل معاہدہ کیسے ہو سکتا ہے۔

سینیر اسرائیلی عہدیدار نے نشاندہی کی کہ حماس نے مصر کو اس تجویز کا "زبانی جواب" فراہم کیا، جس میں اس نے اپنے مطالبات میں "معمولی ترامیم" پر اتفاق کیا۔

تاہم اہلکار نے اشارہ کیا کہ حماس کا نیا ردعمل کسی پیش رفت کی نشاندہی نہیں کرتا۔

حماس نے اس ہفتے قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں تفصیلات کا اعلان نہیں کیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب العربیہ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ تحریک کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی سربراہی میں قاہرہ کا دورہ کرنے والے حماس کے وفد نے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے مصری حکام سے مشاورت شروع کی ہے۔

یہ بات اس وقت سامنے آئی جب فلسطینی دھڑوں کے ذرائع نے بدھ کو انکشاف کیا کہ مصری دارالحکومت میں غزہ کی پٹی میں امن کے لیے ایک نئے راستے پر بات کی جا رہی ہے، جس میں 45 دنوں کے لیے امن اور قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔

غزہ سے باہر کے ذرائع نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی (AWP) کو بتایا کہ نئے راستے میں پہلے مرحلے میں عارضی جنگ بندی کے بعد مستقل جنگ بندی پر بات چیت کے لیے دوسرے مراحل تجویز کیے گئے ہیں۔

غزہ میں 130 اسرائیلی قیدی

قابل ذکر ہے کہ حماس نے حالیہ عرصے کے دوران بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گی جس میں غزہ میں مکمل جنگ بندی اور پٹی سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلاء شامل نہ ہو۔

دریں اثناء اسرائیل نے رفح پر اپنا حملہ روکنے کے بدلے میں 7 اکتوبر سے زیر حراست تمام قیدیوں کو رہا کرنے کی شرط رکھی ہے۔

دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا آخری معاہدہ گزشتہ نومبر کے اواخر میں طے پایا تھا، جس کے بعد 7 اکتوبر کو حماس کے زیر حراست 105 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا گیا، جس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے 240 فلسطینی اسیران کی رہائی ہوئی۔

جب کہ 130 اسرائیلی قیدی غزہ میں موجود ہیں، ان میں سے 30 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جنگ کے دوران مارے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں