قیدیوں کے تبادلے کے متعلق نئے معاہدے کے مثبت اشارے ہیں: گانٹز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اس دوران جب اسرائیل نے دس لاکھ سے زیادہ افراد کی پناہ گاہ بنے رفح شہر میں فوجی آپریشن کرنے کی دھمکی دی ہے، اسرائیلی جنگی کابینہ کے ایک رکن بینی گانٹز نے کہا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو لاگو کرنے کے حوالے سے ممکنہ طور پر ابتدائی مثبت اشارے ملے ہیں۔

گانٹز نے مزید کہا کہ یرغمالیوں کے حوالے سے نئے معاہدے کے بغیر اسرائیلی فوج ماہ رمضان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔ ادھر العربیہ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی سربراہی میں قاہرہ کا دورہ کرنے والے وفد نے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے مصری حکام سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

فلسطینی دھڑوں کے ذرائع نے بدھ کو انکشاف کیا ہے کہ مصری دارالحکومت میں غزہ کی پٹی میں امن کے لیے ایک نئے راستے پر بات چیت کی جا رہی ہے جس میں 45 دنوں کے لیے سکون اور رہا کیے جانے والے ہر اسرائیلی قیدی کے بدلے میں زیادہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔ غزہ سے باہر کے ذرائع نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ پہلے مرحلے میں عارضی جنگ بندی کے بعد مستقل جنگ بندی پر بات چیت کے لیے دوسرے مراحل تجویز کیے گئے ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا کہ جنگ بندی کے راستے میں متعدد فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں بزرگ مردوں اور باقی اسرائیلی خواتین کی رہائی بھی شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیا معاہدہ غزہ شہر اور شمالی غزہ کی پٹی میں زیادہ امداد کی ترسیل کی اجازت دیتا ہے لیکن اس میں جنوب سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی اپنے علاقوں میں واپسی شامل نہیں ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر مذاکرات میں پیش رفت کے امکان کے حوالے سے اسرائیل میں کئی ہفتوں میں پہلی بار منگل کی شام کو محتاط امید کے اشارے سامنے آئے۔

باخبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ نئی امریکی کوششوں کے نتیجے میں ایک تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز کی قیادت میں روابط میں پیش رفت کو آگے بڑھایا گیا۔ اس میں امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے امور کے مشیر بریٹ میک گرک نے بھی شرکت کی

یاد رہے حماس نے حالیہ عرصے کے دوران بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گی جس میں غزہ میں مکمل جنگ بندی اور پٹی سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلاء شامل نہ ہو۔ دریں اثنا اسرائیل نے رفح پر اپنا حملہ روکنے کے بدلے میں 7 اکتوبر سے زیر حراست تمام قیدیوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں