مارچ میں فنڈز ختم ہونے کے بعد اونروا کے پاس کوئی 'پلان بی' نہیں: اونروا سربراہ لبنان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی (اونروا) کے لبنان کے دفتر کی سربراہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ عطیہ دہندہ ممالک جنہوں نے اسرائیلی الزامات کے بعد فنڈز روک رکھے ہیں، اگر اپنی معطلی کو بدستور برقرار رکھیں تو ان کے پاس مارچ میں کوئی "پلان بی" نہیں ہے۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے اونروا کے 13,000 ملازمین میں سے 12 پر الزام لگایا کہ انہوں نے حماس کی قیادت میں گذشتہ سال اسرائیل پر حملے میں حصہ لیا۔ ایجنسی کو ختم کر دینے کے اسرائیلی مطالبات کے کئی برسوں بعد یہ دعوے سامنے آئے ہیں جبکہ غزہ کے باشندوں کو بڑے پیمانے پر بھوک کا سامنا ہے اور بمباری زدہ پٹی میں امداد کا ایک معمولی حصہ ہی پہنچ پاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے نگران دفتر کی جانب سے اسرائیلی الزامات کی زیرِ التوا تحقیقات کے پیشِ نظر سولہ ممالک نے اونروا کو اپنی فنڈنگ معطل کر رکھی ہے جس کے بارے میں لبنان میں ایجنسی کی سربراہ ڈوروتھی کلاؤس نے کہا تھا کہ چند ہفتوں میں یہ تحقیققات تیار ہو جائیں گی۔

انہوں نے کہا، "ہم امید کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ عطیہ دہندگان ایجنسی کو اشارہ کریں گے کہ وہ فنڈنگ منجمد کرنے پر دوبارہ غور کر رہے ہیں اور امید ہے کہ یہ فنڈنگ ایجنسی کو ایسے طریقے سے بحال کر دی جائے گی کہ ہمارے پاس پیسے کی روانی کا مسئلہ نہ ہو اور خدمات بلاتعطل جاری رہیں۔"

"ہمارے پاس کوئی پلان بی نہیں ہے۔"

پہلے ہی ان کا دفتر لبنان میں 65 فیصد فلسطینی پناہ گزینوں کو نقدی کی سہ ماہی تقسیم کرنے کے قابل نہیں ہو سکتا۔

کلاؤس نے کہا، "یہ کمیونٹی کے لیے پہلا اشارہ ہوگا کہ اونروا نقدی کی کمی کا شکار ہے اور یہ پہلی سروس ہوگی جو ہم پہلی سہ ماہی میں فراہم نہیں کر سکیں گے۔"

انہوں نے کہا، اگرچہ انہیں پہلے بھی نقدی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اجتماعی معطلی نے ایک غیر معمولی بحران پیدا کر دیا ہے اور یہ سوچنا غلط ہوگا کہ دوسری ایجنسیاں اس خلا کو پر کر سکتی ہیں۔

کلاؤس نے کہا، لبنان میں اونروا پناہ گزینوں کے لیے 12 کیمپوں کا انتظام کرتا ہے جو صحت کی نگہداشت اور اسکول کی تعلیم سے لے کر کچرا اٹھانے تک خدمات فراہم کرتا ہے۔ اگر فنڈنگ ختم ہو جاتی ہے تو چند دنوں میں کیمپ کی گلیاں کچرے سے بھر جائیں گی۔

اسرائیل کے الزامات اونروا کی طرف سے نظرثانی کے ایک الگ عمل کی بھی وجہ بنے ہیں جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایجنسی کی غیر جانبداری اور آزادی کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

کیا اس جائزے میں لبنان کے پناہ گزین کیمپوں میں اونروا عملے کے مسلح گروپوں سے ممکنہ وابستگیوں کی جانچ شامل ہوگی، اس سوال پر کلاؤس نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کی شاخ سے مشورہ کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں