یمن کے قریب ایک جہاز پر میزائل حملوں کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برٹش میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے آج جمعرات کو کہا ہے کہ اسے یمن کے شہر عدن سے 70 ناٹیکل میل جنوب مشرق میں ایک بحری جہاز پر دو میزائل حملوں کے بعد جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے۔

برٹش میری ٹائم اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ اتحادی افواج اس واقعے کا "جواب" دے رہی ہیں اور جہازوں کو بھی چوکس رہنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دینے کا مشورہ دیا ہے۔

ایمبری میری ٹائم سکیورٹی کمپنی نے کہا کہ ایک کارگو جہاز جس پر پالاؤ کا جھنڈا لہرا رہا تھا ایک برطانوی پارٹی کی ملکیت ہے۔اسے عدن کے جنوب مشرق میں تقریباً 63 ناٹیکل میل کے فاصلے پر دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔

ایمبری نے نشاندہی کی کہ جہاز " تھائی لینڈ کے میپ ٹا فوٹ سے بحیرہ احمر کی طرف جا رہا تھا"۔

بحیرہ احمر میں کئی بحری جہازوں پر یمنی حوثی گروپ نے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے بحیرہ احمر کے راستے بین الاقوامی شپنگ لائن متاثر ہوئی ہے اور اس سمندری راستے سے سالانہ تجارت کے بارہ فی صد کی آمد ورفت ہوتی ہے۔

ایران نواز گروپ کی طرف سے بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملوں کے بعد امریکا، برطانیہ اور دوسرے ممالک نے حوثیوں کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جنگ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل کو مدد فراہم کرنے والے سمندری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں