یوم تاسیس پر سعودی خواتین ڈیزائنرز نے روایتی لباس کو جدید رنگ دے دیا

تقافتی لباس ایک خاموش زبان ہے جو معاشرے کی تہذیب کی عکاسی کرتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عوام جب یوم تاسیس مناتے ہیں، تو روایتی ملبوسات اس جشن کا حصہ ہوتے ہیں۔ یوم تاسیس سعودی خواتین ڈیزائنرز کے لیے ایک اہم موقع ہے جو فیشن کی دنیا میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اور اپنے اختراعی ڈیزائن پیش کرکے انھیں فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ان میں سے کچھ ڈیزائنرز سے بات کی، خاص طور پر وہ جنہوں نے جنوبی لباس کو تیار کرنے اور اس میں جدید رنگ شامل کرنے پر کام کیا ہے۔

عسیر کے علاقے سے تعلق رکھنے والی فیشن ڈیزائنر سلامہ عبدالرحمن نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ عسیری لباس کو ایک مستند ثقافت سمجھا جاتا ہے اور اس کی سماجی اور ثقافتی قدر قابل ذکر ہے۔ یہ حال ہی میں ایک جدید فیشن بن گیا ہے جو تہواروں اور شادیوں کے موقع پر عام نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ایک روایتی فیشن ڈیزائنر کے طور پر اور خاص طور پر جنوبی عسیری کے روایتی لباس میں دلچسپی رکھتی ہوں، میں اس خوبصورت ورثے کی اصل شناخت اور ماضی کی خوشبو کو برقرار رکھتے ہوئے اسے دوبارہ زندہ کرنے کی خواہشمند تھی۔

وہ مزید کہتی ہیں: میرے لیے، روایتی لباس ایک خاموش زبان ہے جو معاشرے کی تہذیب کی عکاسی کرتی ہے۔

ڈیزائنر سلامہ عبدالرحمٰن بتاتی ہیں کہ وہ عسیری بلی، پیلے رومال، تہبند، جیسی روایتی چیزوں سے متاثر ہوئی تھیں، اور انہیں اپنے ڈیزائنوں میں عسیری لباس کا لازمی حصہ بنانے کے لیے استعمال کیا تھا۔

سلامہ عبدالرحمٰن نے بتایا کیا کہ وہ داخلی اور بین الاقوامی طور پر مملکت کی نمائندگی کرتی ہیں، جن میں سے سب سے حالیہ میلان میں "آرٹیگانو" فیسٹیول میں اٹلی میں سعودی عرب کی نمائندگی کرنے میں ان کی شرکت تھی، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ انہوں نے اپنے ڈیزائنوں میں اپنی ثقافت جیسے کہ "اسکارف" کو شامل کیا۔۔

وہ اپنی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے اعلیٰ معیار کے مواد کا انتخاب کرتی ہے، جن میں کپڑا اور کڑھائی کے دھاگے ریشم ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ'' میں نے اپنی مصنوعات کا نام اپنی دادی کے نام پر رکھا، جب وہ اپنا عسیری لباس پہنتی تھیں تو ان میں ایک مخصوص خوشبو ہوتی تھی، کیونکہ عسیری لباس صرف بزرگ خواتین میں مقبول تھا۔''

جبکہ نجران سے تعلق رکھنے والی فیشن ڈیزائنر البتول سلیمان نے کہا کہ ثقافت کو استعمال کرنے کا پہلا خیال جدت کے ذریعے آتا ہے، نہ کہ پرانے فیشن کی تجدید سے۔

انہوں نے کہا کہ نجران کے علاقے کے فیشن میں بہت سی تحریریں یا نوشتہ جات نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے اپنے ڈیزائنوں پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ فیشن میں جدت کو شامل کرنے کے لیے اس خطے کی نشاندہی کرتی ہیں، جس میں خطاطی، پیٹرن، یا شہری انداز شامل ہیں۔

البتول نے کہا: یہ اختراع عصری روح میں ہمارے ورثے کے بارے میں بیداری اور دلچسپی پھیلانے میں معاون ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں