فلسطین اسرائیل تنازع

'بابا،واپس آجائیں':اسرائیلی جیلوں میں قیدفلسطینیوں کے عزیزوں کو بذریعہ ریڈیو پیغامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیل-حماس جنگ کے دوران فلسطینیوں کو اسرائیلی جیلوں میں قید رشتہ داروں سے ملنے کے حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ تو اس کی بجائے وہ اپنے عزیزوں کو ریڈیو پروگرام میں پیغامات بھیجنے لگے ہیں۔

قیدیوں کے لیے پیغامات نامی ایک فلسطینی ریڈیو شو کے ذریعے ارسال کردہ پیغام میں کہا گیا، "ہیلو، یہ پیغام میرے بھائی اسلام کے لیے ہے۔ کیسے ہو میرے بھائی؟"

"تمہارا گھر تیار ہے۔ جب تم جیل سے نکلو گے تو شادی کی غرض سے کسی کو تلاش کرنے کے لیے بالکل تیار ہو گے۔"

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں قائم مشہور فلسطینی سٹیشن ریڈیو اجیال پر شو میں خاندانوں کے ذاتی پیغامات پیش کیے جاتے ہیں جو اکثر اس جملے پر ختم ہوتے ہیں: "ہمیں امید ہے کہ یہ الفاظ آپ تک پہنچ جائیں گے"۔

مہم چلانے والے کہتے ہیں کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی تعداد بڑھ کر 9,000 کے قریب پہنچ گئی ہے جو جنگ کی وجہ بننے والے حماس کے سات اکتوبر کے حملے سے قبل تقریباً 5,200 تھی۔

حملے کے بعد گرفتاریوں کی نئی لہر اور زیرِ حراست افراد پر سخت پابندیوں کے بعد ریڈیو سٹیشن پر رشتہ داروں کے پیغامات کا گویا ایک سیلاب امڈ آیا۔ جواب میں ریڈیو سٹیشن نے شو میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت کا اضافہ کر دیا ہے۔

ریڈیو اجیال کے چیف ایڈیٹر ولید ناصر نے کہا، "ہمیں ہر جگہ سے پیغامات موصول ہوتے ہیں" کیونکہ کئی خاندانوں کو "اب جیل میں اپنے عزیزوں کی کوئی خبر نہیں ہے۔"

ایک پیغام میں کہا گیا، "پیارے بابا، میں انتظار نہیں کر سکتا کہ آپ واپس آئیں اور مجھے اسکول لے کر جائیں۔" ایسے پیغامات اکثر بچوں کی زبانی ہوتے ہیں اور بعض اوقات ان میں دبی ہوئی سسکیاں بھی سنائی دیتی ہیں۔

ایک اور پیغام تھا، "گھر میں سب ٹھیک ہے، یونیورسٹی میں سب ٹھیک ہے۔ فکر نہ کریں۔"

شو کی میزبان میثم برغوتی جو خود کچھ پیغامات پڑھتی ہیں، نے کہا بہت سے خاندان "سہارے کے لیے کسی امید کی تلاش میں ہیں"۔

"شو واقعی کسی عزیز سے رابطہ کرنے یا معلومات حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔"

ملاقات کے حقوق منقطع کر کے اور فون کالز پر پابندی لگا کر اسرائیلی جیل حکام نے سات اکتوبر کے بعد "ہنگامی حالت" کا اعلان کر دیا تاکہ قیدیوں کو مزید بدامنی میں ملوث ہونے سے روکا جا سکے۔

ریڈیو پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے لیکن اہلِ خانہ کے ساتھ ساتھ ریڈیو اجیال کے عملے کو بھی امید ہے کہ قیدی اب بھی کسی نہ کسی طرح ریڈیو چلا کر انہیں سکیں گے۔

فلسطینی قیدیوں کے کلب ایڈوکیسی گروپ نے کہا کہ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے دورے بھی بند ہو گئے ہیں۔ آئی سی آر سی اور اسرائیل دونوں نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اگرچہ کچھ فلسطینی نامعلوم الزامات کے تحت زیرِ حراست ہیں لیکن گرفتاری کی سب سے عام بنیادیں تشدد کے لیے آن لائن اشتعال سے لے کر مبینہ عسکریت پسندانہ سرگرمیوں تک ہیں۔

حقوق کے کئی گروپوں نے اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار اور سابق قیدیوں کی معلومات کی بنیاد پر کہا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے جیلوں کے حالات ابتر ہوگئے ہیں۔

احسان کمال کے بھائی سعید کو اسرائیلیوں پر حملے کے الزام میں 38 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا، "میرا بھائی 22 سال سے جیل میں ہے اور گذشتہ تین ماہ ہم سب کے لیے مشکل ترین تھے۔"

کمال نے کہا، "میرے والدین مہینے میں ایک بار ان سے ملنے جاتے تھے۔ اب ہمارے پاس بالکل کوئی خبر نہیں ہے اور ہم نے سنا ہے کہ جیلوں میں صورتِ حال خوفناک ہے۔"

انسانی حقوق کی تنظیموں کہتی ہیں کہ سات اکتوبر سے اب تک کم از کم نو فلسطینی اسرائیلی سلاخوں کے پیچھے ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی گروپ ایسوسی ایشن فار سول رائٹس اِن اسرائیل نے ججوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لیےجیلوں کا دورہ کریں جہاں انہیں رکھا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اعلان کیا ہے کہ ججز جیل جائیں گے لیکن ابھی تک ان کے دوروں کی اطلاع نہیں ہے۔

اولا زغلول اپنے شوہر محمد سے دور رہنے کی عادی ہیں جو اب 60 کے پیٹے میں ہیں اور دو عشروں سے زیادہ عرصہ اسرائیلی جیلوں میں گذار چکے ہیں۔

انہوں نے کہا، "میری بیٹیوں نے بغیر باپ کے پرورش پائی۔"

ان کی ایک بیٹی اقصیٰ جو 18 سالہ طالبہ ہے، نے کہا کہ "ہمیں صرف ان کی آواز سننی ہے"۔

"صرف ان کے لہجے سے ہم جان لیں گے کہ وہ ٹھیک ہیں یا نہیں۔"

خاندان نے بتایا کہ محمد جو جولائی میں رہا ہوئے اور 10 جنوری کو دوبارہ گرفتار کر لیے گئے، وہ بیمار ہیں اور ان کا جرمنی میں اعصابی معائنہ طے شدہ تھا۔

طے شدہ روانگی سے چند روز قبل انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

زغلول کی سب سے چھوٹی بیٹی دانا نے کہا، "ہم جانتے ہیں کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں۔"

ان کے والد کو فلسطینی صدر محمود عباس کی الفتح پارٹی کے مسلح ونگ الاقصیٰ شہداء بریگیڈز میں شمولیت پر سزا سنائی گئی تھی۔

ان کے بھائی یوسف نے کہا، محمد ایک "مضبوط دماغ" رکھتے ہیں لیکن ان کی صحت تشویشناک ہے۔

انہوں نے کہا، "میں انہیں یاد کرتا ہوں۔"

یوسف نے مزید کہا، "جنگ سے پہلے ہم 'ایک ساتھ اسکول جاتے تھے'۔ جب بھی میں یونیورسٹی جاتا ہوں، ان کے بارے میں سوچتا ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں