" بین الاقوامی قانون کی پابندی سب کے لیے یکساں طور پر لازم ہے"

متحدہ عرب امارات کے عدالت انصاف میں اسرائیلی قبضے کے خلاف دلائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بین الا قوامی قانون کی پابندی سب کے لیے یکساں طور پر لازم ہے، قانون کا سب پر اطلاق ہونا چاہیے۔ یہ موقف متحدہ عرب امارات کی طرف سے بدھ کے روز بین الاقوامی عدالت انصاف میں پیش کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں 52 ممالک اور تین عالمی تنظیمیں شرکت کریں گی۔ اس سب سے بڑی بین الاقوامی عدالت میں فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے بارے میں سماعت 6 روز تک جاری رہنے کا بتایا گیا تھا۔

بین الاقوامی عدالت انصاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی درخواست پر فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف 'ہیگ' میں آج کل سماعت کر رہی ہے۔ عدالت کی ان سماعتوں میں فلسطینیوں کی آبادی کا تناسب بدلنے کی اسرائیلی کوششوں کے علاوہ مشرقی یروشلم کے ' سٹیٹس' کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

بدھ کے روز عدالتی سماعت کے دوران متحدہ عرب امارات نے عدالت کے سامنے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا ' بین الاقوامی قانون کی پابندی سب کے لیے لازم ہے۔'

متحدہ عرب امارات کی سفیر لانا نصیبہ نے کہا ' قانون کا سب پر اطلاق 7 عشروں سے زیادہ عرصے سے جاری فلسطینی سوال بے انصافی کے طویل سائے میں مزید ضروری ہو چکا ہے۔ '

سفیر نے ہیگ میں قائم عدالت کے 15 ججوں کے پینل کے سامنے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ' متحدہ عرب امارات کے دو ریاستی حلل کے ذریعے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے موقف کا اعادہ کرتا ہے کیونکہ منصفانہ اور دیرپا امن کا واحد راستہ یہی ہے کہ فلسطینی عوام کے طویل عرصے مستردکیا گیا حق انہیں لوٹا دیا جائے۔ تاکہ مشرقی یروشلم کے ساتھ 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار فلسطین کے ساتھ خود ارادیت کی بنیاد پر قائم ہو سکے۔

متحدہ عرب امارات کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ' اسرائیل نے بالعموم یروشلم میں مقدس مقامات تک زائرین کو مفت اجازت دینے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں کوتاہی کا ارتکاب کیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اسرائیل نے یروشلم کا خصوصی کردار بھی ہمیشہ مجروح کیا ہے اور یروشلم کے ثقافتی ورثے کو ختم کر دیا ہے۔ '

امارات کی سفیر نے اپنے استدلال کو پیش کرتے ہوئے کہا ' اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائی ختم کرنی چاہیے۔ زیر محاصرہ غزہ میں امدادی اشیاء پہنچانے کی اجازت دینی چاہیے نیز فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی روکی جانی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں غزہ میں جنگ بندی ہونی چاہیے۔ ' سفیر نے کہا ' اسرائیل کو سلامتی کونسل کے تمام فیصلوں پر عمل کرنا چاہیے نیز رکن ممالک کو اسرائیل کی طرف سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے میں تعاون کرنا چاہیے۔ '

اماراتی سفیر لانا نصیبہ نے کہا ' فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو اپنی آزاد ، خوشحال اور محفوظ ریاستوں میں ترقی کرتے ہوئے رہنا چاہیے۔ ' اسرائیل نے ابھی تک بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے اپنے دلائل زبانی پیش کرنے کا فیصلہ نہیں کیا مگر تحریری طور پر اپنا موقف عدالتی سماعت شروع ہونے سے بھی پہلے عدالت کو پیش کر دیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو عدالت میں سماعت کو قابل نفرت اورذلت آمیز قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں