13 سال بندش کے بعد اسرائیل المنطار کراسنگ کھولنے کی تیاری کرنے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی اے بی سی نیوز ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل شمالی غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے کو آسان بنانے کے لیے کارنی (المنطار) بارڈر کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیل نے کارنی کراسنگ کو 2011میں بند کر دیا تھا۔ حماس نے پٹی پر 2007 میں اقتدار سنبھالا تھا۔

اے بی سی نیوز نیٹ ورک نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کو پٹی کے مرکز اور جنوب سے الگ تھلگ کر دیا ہے جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کے مطابق امداد کی ترسیل تقریباً مکمل طور پر بند ہو گئی۔

بھوک سے مرنے کا خطرہ

منگل کے روز، اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے شمالی غزہ کی پٹی میں خوراک کی امداد کی فراہمی اس وقت تک معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جب تک کہ ایسے حالات نہ پیدا ہوجائیں جو محفوظ تقسیم کی اجازت دیں۔ ڈبلیو ایف پی نے انتباہ دیا کہ امداد کی ترسیل روکنے سے مزید رہائشیوں کو فاقہ کشی کا خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

پروگرام نے ایک بیان میں کہا کہ امداد کی فراہمی روکنے کے فیصلے کو آسانی سے نہیں لیا گیا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ وہاں کی صورت حال مزید خراب ہو جائے گی۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو بھوک سے مرنے کے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غزہ میں لوگ پہلے ہی بھوک سے متعلق وجوہات سے مر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے مکینوں کو غذائی قلت سے موت کے خطرے کا سامنا ہے۔ قحط وہاں کے حالات کو "تباہ کن" بنا دے گا۔

صرف دو کراسنگز

ورلڈ فوڈ پروگرام، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے قحط اور بیماری کے خطرے کو روکنے کے لیے غزہ تک امداد کی تیز اور محفوظ رسائی پر زور دیا ہے۔ صرف دو کراسنگز کے سوا تمام کراسنگز بند ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے خبردار کیا کہ پٹی کے باشندے خوراک، پانی، ادویات اور صحت کی مناسب دیکھ بھال کی کمی کا شکار ہیں۔

صورتحال تباہ کن

ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے مزید کہا کہ قحط پہلے سے ہی خوفناک صورتحال کو تباہ کن بنا دے گا کیونکہ بیماروں کو بھوک کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ بھوکے لوگوں کو بیماری کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں