فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی فوج نے خان یونس کے سب سے بڑے ' الناصر ہسپتال ' کا قبضہ چھوڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج جس نے غزہ میں قائم ہسپتالوں کو بمباری کر کے یا ان پر اپنی زمینی فوج کے حملے کر کے انہیں ناکا رہ بنانے کی باقاعدہ حکمت عملی اختیار کیے رکھی ہے۔ مگر خان یونس کا 'الناصر ہسپتال' اس حکمت عملی کے باوجود کسی حد کام کے قابل رہ گیا تھا۔ پچھلے سے ہفتے اسرائیلی فوج نے اس پر بھی عملاً قبضہ کر لیا تھا۔

اسرائیلی فوج کے 'الناصر ہسپتال ' پر اس طرح قبضہ کیے جانے کے بعد اس کی ورکنگ بھی مکمل طور پر رک گئی تھی۔ تاہم ایک ہفتے کے بعد جمعرات کے روز اسرائیلی فوج نے اس ہسپتال کو خالی کر کے اس پر کیا گیا قبضہ ختم کر دیا ہے۔ و

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 'الناصر ہسپتال' غزہ کا دوسرا بڑا ہسپتال ہے۔ اس لیے اس کی تباہ شدہ غزہ میں اہمیت مزید بڑھ چکی ہے۔ مگر ایک ہفتے کے قبضے کے بعد اسرائیلی فوج کا اس ہسپتال سے انخلاء اس ماحول میں کیا گیا ہے کہ اس دوران ہسپتال میں انتقال کر جانے والے مریضوں کی لاشیں خراب ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

ان لاشوں کے خراب ہونے کی وجہ اس فوجی قبضے کے نتیجے میں بجلی کی مسلسل بندش کے علاوہ ہسپتال کے اندر بھی فوج کی طرف سے جنگ کی سی کیفیت کی وجہ سے بجلی کا تعطل بن گیا۔ ایک ہفتے کے دوران ہسپتال میں 140 مریض پھنس کر بھی رہ گئے تھے۔

مگر اب عالمی ادارہ صحت اور اس کے شراکت داروں نے فوج کے انخلاء کے باوجود ہسپتال سے موجود 140 مریضوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ جمعرات کے روز اسرائیلی فوج کی اجازت سے 40 مریضوں کو عالمی ادارہ صحت نے نکال لیا تھا۔

جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ہسپتال کا ایک ہفتے بعد قبضہ چھوڑنے کا فیصلہ صرف اس لیے کیا ہے کہ ہسپتال سے فلسطینیوں کی لاشیں نکال لی جائیں اور فلسطینیوں مریضوں سے ہسپتال کو مکمل خالی کر دیا جائے ۔ تاکہ بعد ازاں ہسپتال اسرائیلی فوج کے اطیمنان کے مطابق اس کے کنٹرول میں رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں