اسرائیل قیدیوں سے متعلق پیرس مذاکرات میں شریک

وائٹ ہاؤس پیش رفت کے بارے میں پرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے ایک اسرائیلی اہلکار اور ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی میں قیدیوں کے بارے میں بات چیت کے لیے مذاکرات کاروں کو پیرس بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ویب سائٹ نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دباؤ اور اسرائیلی جنگی کونسل کے بعض ارکان، فوج اور انٹیلی جنس کے اندرونی دباؤ کے بعد کیا گیا ہے۔

Axios نے جمعرات کی صبح اطلاع دی تھی کہ امریکی صدر بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے مشیر بریٹ میک گرک نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں پیرس میں ہونے والے مذاکرات میں ایک وفد بھیجے، جس میں حماس کے ساتھ مصری اور قطری ثالثوں کے مذاکرات میں پیش رفت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

تین باخبر اسرائیلی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے’ایکسیس‘ نے کہا کہ " میک گرگ کا پیغام یہ ہے کہ حماس، مصر اور قطر کے درمیان مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔حماس اپنے مطالبات میں لچک دکھانے کے لیے تیار ہے"۔

دوسری طرف وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے جمعرات کو کہا کہ مشرق وسطیٰ کے امریکی ایلچی میک گرک نے مصر اور اسرائیل میں "تعمیری" ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن لڑائی میں توسیعی جنگ بندی کے بدلے قیدیوں کے بارے میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنی بساط میں ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ایک آن لائن پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کربی نے Axios کی اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنز پیرس میں قطری، مصری اور اسرائیلی حکام سے ملاقات کریں گے۔

کربی نے تبصرہ کیاکہ "میں پیرس کے بارے میں مخصوص رپورٹوں کی تصدیق نہیں کر سکتا، لیکن میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ بات چیت جاری ہے"۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں اب بھی 130 یرغمال بنائے گئے ہیں، جن میں سے 30 ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں