امریکی انٹیلی جنس نے حماس عناصر کی ’اونروا‘ میں شمولیت کے اسرائیلی دعووں کی تائید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی انٹیلی جنس ایجنسی نے اسرائیل کی طرف سے حماس جنگجوؤں کی اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’اونروا‘ میں شامل ہونے کے اسرائیلی دعووں کی تائید کی ہے۔

امریکی انٹیلی جنس کی طرف سے یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ برس سات اکتوبر کو ہونے والے حملے میں ’اونروا‘ کے کچھ ملازمین نے بھی حصہ لیا تھا۔

اس معاملے سے واقف ذرائع نے اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کو بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس نے اسرائیل کے اس دعوے کی تائید کی ہے تاہم ساتھ ہی کہا ہے کہ ان کے پاس اس بارے میں آزادانہ معلومات نہیں ہیں۔

اگرچہ امریکہ نے اعلیٰ سطحی ثبوت نہ ہونے کے باوجود محض اسرائیلی دعؤوں پر اعتماد کرتے ہوئے گذشتہ ماہ جنوری میں ’اونروا‘ کی امداد بند کر دی تھی۔ امریکہ کے اس اقدام کے بعد گیارہ دوسرے ممالک نے بھی فلسطینیوں کی واحد امید ’یو این‘ ایجنسی کی امداد معطل کر دی تھی۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ ’اونروا‘ کے ایک درجن بھر ملازمین نے سات اکتوبر کے جنوبی اسرائیل پر ہونے والے خوفناک حملے میں حصہ لیا تھا۔ ان میں سے ایک اہلکار مارا گیا تھا جب کہ باقی اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

جمعرات کو ’اونروا‘ کے ڈائریکٹر جنرل فلپ لازارینی نے کہا کہ ان کی ایجنسی 450 ملین ڈالر کی فنڈنگ کی معطلی اور اسرائیل کی طرف سے ایجنسی کو ختم کرنے کے مطالبات کی وجہ سے ’بریکنگ پوائنٹ‘ پر پہنچ چکی ہے، جس سے غزہ کو انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

فرانس کی سابق وزیرخارجہ کیتھرین کولونا جنہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیرس نے اس جائزے کی سربراہی کے لیے مقرر کیا تھا، نے جمعرات کو اقوام متحدہ میں کہا کہ انھوں نے اسرائیلی حکام سے ملاقات کی درخواست کی تھی لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔

کولونا نے زور دے کر کہا کہ ان کا مینڈیٹ ان الزامات کی تحقیقات کرنا نہیں تھا بلکہ اس بات کا جائزہ لینا تھا کہ آیا ’اونروا‘ غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے"۔

وہ اور ان کی ٹیم مارچ کے آخرمیں ایک عبوری رپورٹ اور 20 اپریل تک ایک حتمی رپورٹ شائع کرنے والی ہے، جس میں اس نے کہا کہ اس میں سفارشات شامل ہوں گی۔ میرا مقصد ایک ایسی رپورٹ فراہم کرنا ہے جو سخت ہو اور انتہائی مشکل صورتحال کو مدنظر رکھے کر تیار کی جائے"۔

ایجنسی کےعملے کے خلاف گذشتہ ماہ سامنے آنے والے ابتدائی الزامات کے بعد سے اسرائیل جس نے طویل عرصے سے ’اونروا‘ اور اقوام متحدہ کے خلاف مبینہ تعصب کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، نے اپنے الزامات کو بڑھا دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیلی سفیر گیلاد اردان نے کہا تھا کہ غزہ میں ’اونروا‘ کے 13,000 ملازمین میں سے 12% حماس اور اسلامی جہاد کے ارکان ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ان میں سے کم از کم 236 ان تنظیموں کے مسلح ونگز میں سرگرم دہشت گرد ہیں۔ جس سے یہ اونروا ایک دہشت گرد تنظیم بن چکی ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں