فلسطین اسرائیل تنازع

عالمی ادارہ صحت کا غزہ کے ہسپتال سے مریضوں کے انخلا کا منصوبہ شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی ادارہ صحت نے 'الناصر ہسپتال ' سے مریضوں اور زخمیوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ہسپتال پر ایک ہفتے کے قبضے کے بعد انخلا کے اعلان کے باوجود عالمی ادارہ صحت نے اس ہسپتال میں مریضوں کے لیے علاج معالجے کے خاتمے کا غیر رسمی سا اعلان کیوں کر دیا ہے۔ 140 مریضوں میں سے 51 مریضوں کو نکال لیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس ہسپتال میں بجلی کے انقطاع کی وجہ سے متعدد مریض اسرائیلی قبضے کے دنوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ لیکن فوج کے چلے جانے کے بعد بھی کیا وجہ ہے کہ مریضوں کو یہاں پھر بھی رکھنے کے لیے عالمی ادارہ صحت کی خدمات جاری ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے اس مریضوں کے انخلا کے لیے تیزی سے ہونے والی پیش رفت کے بارے میں یہ بات بھی کی جارہی ہے کہ بجلی کا نظام اسرائیلی فوج اگر تہس نہس کر گئی تو اس کا خبروں میں اظہار نہیں ہے۔ اس لیے کم از کم فوج کے انخلا کے بعد تو ہسپتال کو مریضوں کے علاج معالجے کے لیے بروئے کار رہنے دینا چاہیے ۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ عالمی ادارہ صحت اس طرح تیزی سے مریضوں کو ہسپتال سے نکال رہا ہے۔ جب فوج ہسپتال سے عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہسپتال سے نکل گئی ہے تو کیا وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت اس ہسپتال کی بجلی بحال کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے ۔

عالمی ادارہ صحت ترجمان ساپا بیکوو کا کہنا ہے کہ ان مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں کے علاوہ رفح میں قائم فیلڈ ہسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ تاہم ترجمان نے کہا ' یہ بڑی خطرے والی بات ہو سکتی ہے۔ ' فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ابھی تک 110 فلسطینی مریض ہسپتال میں باقی ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق ہسپتال میں بجلی اور آکسیجن کی سہولت باقی نہیں رہی ہے۔ اس وجہ سے آٹھ مریض جاں بحق ہو چکے ہیں۔

وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کے 34ہسپتالوں میں سے 13 باقی بچے ہیں اور وہ بھی جزوی طور پر ہی کام کر رہے ہیں۔ ان بقیہ ہسپتالوں میں کوئی خوراک ہے، طبی ترسیلات اور سہولیات ہیں، بجلی ہے نہ مریضوں کی ضرورت کے لیے آکسیجن کی فراہمی باقی نہیں رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں