غالیہ اور موضی، تاریخ کے جھروکوں سے خواتین ہیروز کے کارنامے

تجارت میں خواتین کا نمایاں کردار تھا، اس لیے موسمی بازار میں چھوٹی دکانیں مقرر کی گئیں جو خواتین چلاتی تھیں: تاریخی محقق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی ریاست کے تمام مراحل میں سعودی خواتین کا نمایاں کردار رہا ہے، خواہ وہ پہلی سعودی ریاست کا دور ہو یا موجودہ جدیدیت۔

جس طرح مردوں کا بہادری سے چار دیواری کے باہر میدان جنگ میں اہم کردار تھا، اسی طرح خواتین کا بھی تھا۔

معاشرے میں متعدد بار ان کا بہادرانہ کردار سامنے آیا ہے، جیسا کہ "موضی بنت سلطان اور غالیہ البقمیہ، جو اپنے تاریخی موقف کے لیے تاریخ کا حصہ بن گئیں۔

امام عبدالرحمٰن بن فیصل یونیورسٹی میں ماڈرن ہسٹری کی اسسٹنٹ پروفیسر جملا بنت مبارک المری نے العربیہ نیٹ کو ان خواتین کے بارے میں قابل ذکر تفصیلات بتائی۔

"مودی بنت سلطان" کو سائنس اور اوقاف میں دلچسپی تھی۔ الطریف کے پڑوس میں ایک مشہور وقف تھا۔ اسے "سبلا مودی" کے نام سے جانا جاتا تھا۔
"سبلا" کمیونٹی کے لیے ایک خیراتی اوقاف تھا، جو زائرین، علم کے طالب علموں، تاجروں اور دیگر لوگوں کی خدمت کے لیے مختص کیا گیا تھا۔
وہ گہری بصیرت اور دانشمندانہ نظر رکھنے والی مذہبی خاتون تھیں، جو لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنا پسند کرتی تھیں۔

ًغالیہ البقمیہ

تاریخی محقق المری نے مزید کہا کہ سعودی تاریخ میں ایسی خواتین بھی ہیں جنہوں نے بہادری اور شجاعت کا مظاہرہ کر کے خود کو نمایاں کیا، جیسا کہ "غالیہ البقمیہ"، جو "تربہ" سے تھیں۔
انہوں نے وطن کے دفاع اور ریاست کے خلاف مہمات کا ڈٹ کے مقابلہ کیا۔وہ اپنی سخاوت کے لیے بھی جانی جاتی تھیں، کیونکہ ان کا گھر ضرورت مندوں اور وفاداران ریاست کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا۔

معاشی کردار

اس دور میں خواتین نے زراعت اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے اپنا معاشی کردار ادا کیا، لیکن یہ محدود دائرہ کار میں تھا کیونکہ یہ مرد کی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی، تاہم اس نے کپڑے سلائی کرنے ، روئی ، اون، یا کھجور کے پتوں سے بہت سی مصنوعات بنانے کے علاوہ لکڑیاں جمع کرنے، کاٹنے، بیچنے اور مصالحہ جات کی فروخت جیسے کام کیے۔

جمالہ المری مزید کہتی ہیں: تجارت میں خواتین کا نمایاں کردار تھا، اس لیے خواتین کے زیر انتظام موسمی بازار میں چھوٹی دکانیں مختص کی گئیں، جس کا ذکر ابن بشر نے بھی اپنی کتاب میں کیا ہے۔ تجارت، خرید و فروخت ، خوشحالی کا ذکر کرتے ہوئے اس نے لکھا کہ مردوں کے لیے ایک موسم تھا، عورتوں کا دوسرا موسم۔

کچھ خواتین نے اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے اپنے گھروں میں چھوٹی چھوٹی دکانیں بھی رکھی تھیں اور ان میں سے کچھ اپنا سامان سر پر اٹھائے مالدار لوگوں کے گھروں پر جا کر اپنی مصنوعات بیچتی تھیں۔

تربہ شہر میں غالیہ البقمیہ سے منسوب ایک محل
تربہ شہر میں غالیہ البقمیہ سے منسوب ایک محل

خواتین شعراء

پہلی سعودی ریاست میں خواتین کو سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑا جس نے ان کے جذبات اور جوش کو ابھارا، اس لیے انہوں نے حب الوطنی سے بھرپور اپنی نظموں کے ساتھ سماجی شرکت کی۔ ان ممتاز شاعروں میں سے ایک جن کی پرجوش نظموں کو تاریخی یادداشت میں محفوظ کیا گیا ہے شاعرہ موضی بنت سعد الدہلاوی ہیں۔ اپنی ایک نظم میں انہوں نےالراس کے محاصرے میں جارح عثمانی افواج کے سامنے محافظوں کو مضبوطی سے کھڑے ہونے کی ترغیب دی.

موجودہ دور میں خواتین

موجودہ دور میں خواتین اب اپنا بہترین کردار ادا کر رہی ہیں، کیونکہ وہ وژن 2030 کے ساتھ زیادہ بااختیار ہو چکی ہیں ۔ سیاسی کردار، قیادت اور انتظامی عہدوں کو سنبھالنا، اور کونسلوں کے لیے نامزد ہونا اب نئی بات نہیں خواتین اب سفیر، نائب وزیر، ثقافتی اتاشی، اور شوریٰ کونسل کی رکن بھی بن گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں