فلسطین اسرائیل تنازع

پیرس میں اسرائیل اور حماس جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی پھر تیاری

اسرائیلی موساد سربراہ شریک ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی مذاکرات کار اس ہفتے کے اختتام پر پیرس میں ایک بار پھر جنگ بندی مذاکرات کے لیے پہنچیں گے۔ ان کے مذاکرات کا یہ دور بھی امریکی۔ قطری، اور مصری حکام کے ساتھ ہوگا ، جہاں مذاکرات کے دوران حماس کی طرف سے آنے والی تازہ تجاویز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

مذاکرات کا اہم ترین موضوع اسرائیل کے لیے یرغمالیوں کی رہائی ہے ، اگرچہ نیتن یاہو رفح پر اسرائیل کی جنگی یلغار کے تناظر میں کہہ چکے ہیں کہ رفح پر حملہ ہر صورت میں ہو گا قطع نظر اس کے کے یرغمالیوں کی زندگیوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نیتن یاہو حماس کی پہلے سانمنے آنےوالی تجاویز کو بھی ناقابل قبول کہہ چکے ہیں۔

دوسری جانب حماس کے سربراہ اس ہفتے کے دوران بھی قاہرہ میں موجود تھے تاکہ مصری حکام کے ساتھ جنگ بندی کے موضوع پر بظاہر تعطل کا شکار ہو چکے مذاکرات کے سلسلے میں مصر کےساتھ بات چیت جاری رکھیں ، ان کی قاہرہ میں اس ہفتے موجودگی اس امر کی مظہر ہے کہ مذاکرات ابھی کسی سطح پر جاری ہیں۔ ٓ

اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی جنگی کابینہ نے حماس کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے لیے اپنا وفد فرانس کے دارالحکومت بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی وفد موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کریں گے۔ امکانی طور پر جمعہ کے روز پیر جائیں گے جہاں ایک سو یرغمالیوں کی رہائی کے سلسلے کافی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ جو سات اکتوبر سے حماس کی قید میں ہیں۔

امریکی سی آئی اے کے دائریکٹر ولیم برنز، قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالر حمان الثانی اور مصری انٹیلی جنس عباس کامل بھی پیرس کےان مذاکرات کا حسہ ہوں گے۔ اس سے پہلے جمعرات کے روز اسرائیلی وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے کہا تھا کہ وسییع اختیار کےساتھ ہمارا وفد پیرس جائے گا۔

یہ تیزی مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان المبارک سے پہلے دیکھنے میں آ رہی ہے۔ رمضان المبارک دس مارچ سے شروع ہونے کا امکان ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا برازیل میں رپورٹرز کے ساتھ گفتگو میں کہنا تھا'ہماری یہ شدت کے ساتھ کوشش ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدہ ہو جائے اور یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنا لی جائے گی۔'

امریکہ کا مشرق وسطیٰ کے لیے بریٹ مکگرک کے حوالے امریکی سلامتی سے متعلق ترجمان جان کربی نے بتایا تھا کہ ان کی مصر اور اسرائیل کے درمیان تعمیری ملاقاتیں ہوئی ہیں، ان ملاقاتوں میں نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی ملاقات بھی شامل ہے۔ وزیر خارجہ بلنکن نے بھی بتایا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس چیف اور امریکی نمائندہ برائے مشرق وسطیٰ کے درمیان مسلسل رابطہ ہے اور دونوں ہر پہلو کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔'

حماس کے رہنما ابو زہری کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی ذمہ داری اسرائیل پر عاید ہوتی ہے۔ قابض اسرائیل پچھلے ہفتے میں قبول ہو چکی تجاویز سے اب پیچھے ہٹ رہا ہے۔ وہ معاہدے کے لییے دلچسپی ہی نہیں رکھتا ۔' اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اگر حماس نے اپنے رویے میں کچھ لچک دکھائی تو پھر مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ۔ جبکہ حماس سربراہ قاہرہ کا تین روزہ مکمل کرنے کے بعد جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب قاہرہ سے واپس چلے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں