ہماری قومی ٹیم میری توقعات سے بڑھ کر نکلی': سعودی عرب کی خواتین ٹیم کے فٹ بال منیجر '

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
13 منٹ read

سعودی عرب کی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ نے زیریں سطح کے کھیل میں مملکت کی سرمایہ کاری کو سراہا اور کہا ملک کی خواتین کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر کھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

2027 تک چار سالہ کنٹریکٹ پر رہنے والے ہسپانوی لوئس کورٹس نے جمعرات کو العربیہ کو بتایا کہ جب وہ اپنے نئی ذمہ داری کے لیے مملکت پہنچے تو ٹیم کی صلاحیتیں دیکھ کر حیران رہ گئے۔

 سعودی عرب کی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ لوئس کورٹیس۔ (فراہم کردہ)
سعودی عرب کی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ لوئس کورٹیس۔ (فراہم کردہ)

انہوں نے اعتراف کیا، "میں دو ماہ قبل سعودی عرب آیا تھا اور میں نے اس حیرت انگیز ملک میں اس حیرت انگیز ٹیم کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کیا۔ مجھے ایمانداری سے کہنا پڑے گا کہ جب مجھے سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن کی طرف سے دعوت موصول ہوئی تو میری توقعات کم تھیں۔"

"لیکن ایک بار یہاں جب ہم نے لڑکیوں کے ساتھ کام کرنا شروع کیا بالخصوص جنوری میں ان کے ساتھ پہلے تربیتی کیمپ میں تو میں نے کچھ بہت مختلف دیکھا۔ ان کی سطح میری توقع سے زیادہ تھی… اور میرے لیے سب سے اچھی بات یہ تھی کہ وہ سیکھنے کی شوقین تھیں۔ وہ پر چیز کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔ وہ واقعی بہتر کھلاڑی بننا چاہتی ہیں۔"

 سعودی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم (فراہم کردہ)
سعودی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم (فراہم کردہ)

کوچ کے مطابق ان کے چند ٹپس بتانے کے بعد کھلاڑی روزانہ بہتر ہو رہی تھیں۔

کورٹیس نے کہا، "کچھ چیزیں سمجھانے کے بعد وہ اسے کرنے کی کوشش کر رہی تھیں اور ہر روز بہتر ہو رہی تھیں۔ اس پہلے تربیتی کیمپ کے دوران وہ بہتر ہو رہی تھیں۔ اس لیے دوسرے تربیتی کیمپ میں ہم مقابلے اور ٹیم کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ اور یہ بات حیرت انگیز تھی کہ وہ کتنی جلدی سیکھ گئیں۔"

"ان میں سے اکثر بہت کم عمر ہیں۔ ٹیم میں ہماری اوسط عمر 23-24 سال ہے۔ تو ہمارے پاس ایک بہت نوجوان ٹیم ہے اور وہ آئندہ سالوں میں بہت بہتر کر سکتی ہیں۔"

خواتین کے فٹ بال میں سرمایہ کاری

کورٹیس نے کہا یہ "ممکن نہیں ہے" کہ سعودی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم میں سرمایہ کاری کی سطح مردوں کی ٹیم میں کی گئی بڑی سرمایہ کاری سے مماثلت رکھتی ہو جس نے کرسٹیانو رونالڈو، کریم بینزیما اور لیونل میسی سمیت دنیا کے چند سرکردہ کھلاڑیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ مردوں کے فٹ بال کی طرح سرمایہ کاری کی سطح تک پہنچنا عالمی سطح پر غیر حقیقی ہے۔

تاہم انہوں نے نہ صرف قومی ٹیم کی سطح پر بلکہ علاقائی تربیتی مراکز میں خواتین کے کھیلوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کرنے پر سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن اور ملک کی تعریف کی۔

سعودی فٹ بال فیڈریشن نے جدہ، ریاض اور دمام میں 6 سے 17 سال کی لڑکیوں کے لیے چار علاقائی تربیتی مراکز قائم کیے ہیں۔

کورٹیس نے کہا، "اور آئندہ سالوں میں یہ تعداد بڑھے گی۔ وہ خواتین کے کھیل میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ وہ خواتین کے فٹ بال میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اس لیے دو سال پہلے انہوں نے قومی ٹیم کے ساتھ آغاز کیا۔ اب ہماری ٹیم میں کمیشن مردوں کی ٹیم کے برابر ہیں - سفری انتظامات، سہولیات اور عملہ۔"

انہوں نے بات جاری رکھی، "خواتین کے فٹ بال میں سرمایہ کاری نہ صرف قومی ٹیم کی سطح پر بلکہ علاقائی تربیتی مراکز میں بھی حیرت انگیز ہے۔ فیڈریشن واقعی خواتین کے فٹ بال پر اعتماد کرتی ہے۔"

 سعودی خواتین کی قومی ٹیم تربیت کے دوران۔ (فراہم کردہ)
سعودی خواتین کی قومی ٹیم تربیت کے دوران۔ (فراہم کردہ)

کوچ نے انڈر 20 اور انڈر 15 قومی ٹیموں کی تشکیل پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور کہا ان کی بنیادی توجہ ہے تو سینئر قومی ٹیم پر لیکن وہ نوجوان ٹیلنٹ کو پرورش کرنے کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔

"یقیناً اگر آپ کسی بین الاقوامی ٹیم کے ساتھ کام کرنا چاہیں تو آپ کو سپورٹ کی ضرورت ہے، آپ کو ان نوجوان کھلاڑیوں کی ضرورت ہے کیونکہ ہم آئندہ ایک، دو یا تین سال کے لیے ان کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔"

سعودی ٹیلنٹ کو بلند کرنا

سعودی خواتین کی قومی ٹیم کو خواتین کی ڈبلیو اے ایف ایف 2024 چیمپئن شپ میں ایک مشکل آغاز کا سامنا کرنا پڑا جسے اردن کے خلاف 3-1 سے شکست ہوئی۔ اس دھچکے کے باوجود وہ گروپ اے کے مرحلے میں ٹیم کے امکانات کے بارے میں پر امید ہیں جبکہ لبنان اور گوام کے خلاف میچ ابھی باقی ہیں۔

29 فروری تک جدہ میں منعقدہ چیمپئن شپ سعودی عرب میں میزبان کردہ اولین باضابطہ 11-اے سائیڈ خواتین کے ٹورنامنٹ کے طور پر ایک تاریخی لمحہ ہے۔

جدہ میں پرجوش ماحول جب سعودی عرب خواتین کی قومی ٹیم کی حمایت میں ہجوم گرج رہا ہے۔ (فراہم کردہ)
جدہ میں پرجوش ماحول جب سعودی عرب خواتین کی قومی ٹیم کی حمایت میں ہجوم گرج رہا ہے۔ (فراہم کردہ)

سعودی خواتین کی ٹیم کے حتمی ہدف کے بارے میں کورٹیس نے مختصر مدتی اور طویل مدتی دونوں اہداف کا خاکہ پیش کیا۔

انہوں نے کہا، "مختصر مدت میں یہ ہر روز ٹیم کو بہتر بنانے کے بارے میں ہے۔ میں کہتا ہوں اگر کل آپ آج سے بہتر ہو تو مجھے خوشی ہوگی۔" طویل مدتی اہداف میں وہ ٹیم کے لیے بڑے ٹورنامنٹس کے لیے کوالیفائی اور مقابلہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اگرچہ وہ ٹائم فریم کے بارے میں حقیقت پسندانہ رہے۔

"ہم نے ان ٹیموں کے خلاف کھیلنا شروع کیا جنہوں نے شاید 30-40 سال پہلے خواتین کا فٹ بال کھیلنا شروع کیا تھا اور ہم نے محض دو سال پہلے ایک قومی ٹیم کے طور پر شروعات کی تھی۔ تو ہم ایک بچے کی طرح ہیں۔ ہمیں ان بچوں کو سیکھنے، کام کرنے، دوڑنے اور جست لگانے کے لیے صحیح اوزار دینا ہوں گے۔"

کورٹیس کا مقصد ہے کہ ٹیم بڑے ٹورنامنٹس کے لیے کوالیفائی کرے اور کھیلے لیکن ان کے پاس اس مقصد کے لیے کوئی مقررہ ٹائم لائن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا، "اس لیے یقیناً (ہم چاہتے ہیں) کہ کسی بڑے ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کریں اور کھیلیں لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ دو سال میں ہوگا یا پانچ یا 10 سال میں۔ لیکن ہمیں اپنے موقع کے لیے تیار رہنا ہے۔ یہ ایک طویل سفر ہے اور ہم صرف آغاز میں ہیں۔ ہم نے ابھی یہ سفر شروع کیا ہے۔ لیکن ہمارے پاس ذرائع ہیں اور ہمیں سسٹم کو ہیک کرنے کی کوشش کرنے کے لیے ملک کی حمایت حاصل ہے۔"

سعودی عرب کی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم نے 20 فروری 2022 کو سیشلز کو شکست دے کر اپنا پہلا بین الاقوامی میچ جیتا تھا۔(ٹویٹر)
سعودی عرب کی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم نے 20 فروری 2022 کو سیشلز کو شکست دے کر اپنا پہلا بین الاقوامی میچ جیتا تھا۔(ٹویٹر)

عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے اے ایف سی ویمنز ایشین کپ 2026 کے لیے کوالیفائرز میں شرکت کی امید ظاہر کی جو پہلی بار مملکت میں منعقد ہوگا۔

کورٹیس نے کہا، "ابھی ہم اپنے پہلے بضابطہ ٹورنامنٹ میں کھیل رہے ہیں۔ ہمارے پاس بچہ ہے۔ ہم کار چلانے کے لیے بچے کو نہیں لا سکتے۔ ہمیں پرعزم ہونا چاہئے اور ہم پرعزم ہیں۔ اور ہماری انتظامیہ بہت پرعزم ہے کیونکہ وہ خواتین کے فٹ بال میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ لیکن ہمیں قدم بہ قدم جانا ہے۔"

جیسا کہ کورٹیس نے بتایا کلب کے مقابلے میں بین الاقوامی ٹیم کا انتظام منفرد چیلنجز پیش کرتا ہے۔ ایک ساتھ گذارنے کے لیے وقت محدود ہے تو توجہ کھیل کے بارے میں شعور پیدا کرنے اور مختلف کلبوں کی کھلاڑیوں کو ایک مشترکہ مقصد کی طرف لانے پر ہے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو یہ سکھانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی کہ غذا، غذائیت، اور فٹنس کے مشورے جیسے عناصر شامل کر کے کس طرح پیشہ ور کھلاڑی بننا ہے۔ کورٹیس نے متنوع فٹ بالنگ پس منظر والی کھلاڑیوں کے درمیان صف بندی کی ضرورت پر زور دیا۔

کورٹیس نے کہا، "ہم ایک ٹیم کے طور پر جس چیز کی وضاحت یا اس میں مزید ترقی کر سکتے ہیں وہ یہ حکمتِ عملی یا کھیل کے بارے میں یہ آگاہی ہے اور ہم اس پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کر رہے ہیں کیونکہ ہم کھیلنے کے ان تمام مختلف طریقوں کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ کھلاڑی مختلف کلبز سے آ رہی ہیں۔ اس لیے ایک قومی ٹیم کے طور پر آپ کو اسے ہم آہنگ کرنا اور ایک ساتھ جانا ہوگا۔ تو کھیل کا ایک ہی پیغام اور ایک ہی خیال ہو گا۔"

سعودیہ کی مثالی شخصیات

کورٹیس کو امید ہے کہ قومی ٹیم سعودی خواتین فٹ بال ٹیلنٹ کی نئی نسل کو متأثر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص خواتین کے ایس اے ایف کے آفیشل چینلز پر قومی ٹیم کی موجودگی نے کھلاڑیوں کو ایسی متأثر کن شخصیات کا درجہ دیا ہے جو فٹ بال میں دلچسپی رکھنے والی نوجوان لڑکیوں کے لیے مثال بن گئی ہیں۔

انہوں نے کہا، "میرے خیال میں یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے جو ہم پر بطور ٹیم ہے بالخصوص کھلاڑیوں پر کیونکہ وہ تمام لڑکیوں کے لیے مثال بن رہی ہیں۔ کیونکہ شاید دو سال پہلے انہوں نے قومی ٹیم کے ساتھ فٹ بال کھیلنا شروع کیا لیکن میچز نشر نہیں ہوتے تھے اور خواتین کی ٹیم کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا۔

"لیکن اب اگر آپ سوشل میڈیا کو فالو کرتے ہیں تو آپ کو ان لڑکیوں سے متعلق بہت سارا مواد نظر آئے گا۔ اس لیے اب وہ ان تمام نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مثالی ہیں۔ انہیں اب اس ذمہ داری کے ساتھ جینا ہے اور اس سے لطف اندوز ہونا ہے۔ یہ جان کر کہ آپ ان نوجوان لڑکیوں کے لیے بہت معنی رکھتی ہیں جو شاید ایک دن آپ کی جگہ لے سکتی ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ دس سال پہلے اسپین میں بھی ایسی ہی کہانی تھی جب قوم نے بالٹک ملک میں خواتین کے فٹ بال کو دیکھنا شروع کیا۔

"مثلاً حال ہی میں سعودی عرب میں ہمارے میچ کے تمام ٹکٹس فروخت ہو گئے۔ ہماری کھلاڑی کہہ رہی تھیں، 'یہ کیسے ممکن ہے؟'۔ ہم کچھ سال پہلے گویا چھپ کر کھیل رہے تھے۔ اور اب ہم ایک فروخت شدہ اسٹیڈیم کے سامنے کھیل رہے ہیں۔ اس لیے اب وہ اس عمل پر بہت بہت خوش اور بہت فخر محسوس کر رہی ہیں۔ اور وہ آگے بڑھتے رہنا اور دنیا کو دکھاتے رہنا چاہتی ہیں کہ یہاں سعودی میں آپ فٹ بال اور آپ اچھا فٹ بال کھیل سکتے ہیں۔"

خواتین فٹ بال کے سنگِ میل

حالیہ برسوں میں سعودی عرب نے خواتین کے فٹ بال میں اہم سنگِ میل حاصل کیے ہیں جن میں ویمنز پریمیئر لیگ اور فرسٹ ڈویژن لیگ کا قیام اور مختلف سطحوں پر پھیلی ہوئی مختلف قومی ٹیموں کو تیار کرنا شامل ہے۔

صرف 2022 میں ایس اے ایف ایف نے 2021 کے مقابلے میں رجسٹرڈ خواتین کھلاڑیوں کی تعداد میں 86 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جس کی تعداد 374 سے بڑھ کر 694 ہوگئی۔

سعودی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم۔ (فراہم کردہ)
سعودی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم۔ (فراہم کردہ)

قومی سطح پر خواتین کے کلبوں کی تعداد میں بھی 56 فیصد اضافہ ہوا جو اسی عرصے کے دوران 16 فیصد سے بڑھ کر 25 فیصد ہو گئی اور اسی طرح منعقدہ کوچنگ کورسز کی تعداد سات سے 46 ہو کر 557 فیصد تک بڑھ گئی۔

اڑتالیس ہزار سے زیادہ کھلاڑیوں نے 2022/23 سکولز لیگ میں 3,660 ٹیموں میں حصہ لیا – یہ سبھی ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو اجاگر کرتی ہیں جو آئندہ سالوں میں کھیل کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہیں۔

ایس اے ایف ایف کے پاس 90 خواتین ابتدائی ریفریز، 1,000 سے زیادہ کوالیفائیڈ کوچز اور 20 ممالک سے 50 بین الاقوامی کھلاڑی بھی ہیں جو ویمنز پریمیئر لیگ میں حصہ لے رہی ہیں۔

سعودی خواتین کی قومی ٹیم 2023 میں پہلی بار فیفا کی درجہ بندی میں داخل ہوئی اور عنود الاسماری فیفا کی طرف سے تسلیم شدہ اولین سعودی خاتون بین الاقوامی ریفری بن گئیں۔

ایس اے ایف ایف نے مقامی خواتین کے کلبوں کے لیے ایک نئی فنڈنگ اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کا تخمینہ 13 ملین ڈالر سے زیادہ ہے تاکہ کلبوں کو ٹیلنٹ کو راغب کرنے، نئی ٹیمیں قائم کرنے اور باضابطہ مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے ضروری ذرائع حاصل کرنے میں مدد ملے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں