داعش کے زیادہ تر ارکان کا تعلق مراکش، تیونس اور لیبیا سے تھا: بیوہ البغدادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

داعش کے سابق سربراہ ابوبکر البغدادی کی اہلیہ اسماء محمد نے "العربیہ" اور "الحدث" چینلز پر ایک خصوصی انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ تنظیم کےزیادہ تر ارکان کا تعلق مراکش، تیونس اور لیبیا سے تھا۔

اس نے انکشاف کیا کہ ’داعش‘ کے زیادہ تر ارکان کا تعلق مراکش، تیونس اور لیبیا سے تھا۔ تنظیم کو غیر ملکی لوگ کنٹرول کرتے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تنظیم کے قائدین فقہی احکام سے لاعلم تھے۔

اخوان المسلمون کے ساتھ ابوبکر البغدادی کے تعلقات کے بارے میں اسماء محمد نے کہا کہ ان کے شوہر اخوان کے نظریے کی طرف مائل تھے اور انہوں نے النصرہ فرنٹ سے غداری کی۔ القاعدہ پر ارتداد اور گمراہ کن سوچ کا الزام لگایا۔

البغدادی کی پہلی اہلیہ نے ’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ کو دیے گئے اپنے خصوصی انٹرویو میں البغدادی کی روزمرہ کی زندگی کے بارے میں نینویٰ میں ان کی مشہور تقریر پر بات کی۔ ان کے مطابق ابوبکر البغدادی “کھلے ذہن کے مالک تھے اور انتہا پسند نہیں تھے۔ وہ کتابیں پڑھتا اور ایک کمپیوٹر بھی لے لیا تھا تاہم اس نے گھر میں ٹیلیفون کے استعمال پر پابندی لگائی اور 2008ء میں اس سے میرا موبائل فون لے لیا تھا"۔

اسماء محمد نے اپنے شوہر جنہیں دنیا صف اول کے دہشت گردوں میں شمار کیا جاتا ہے کی زندگی کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ جب وہ جیل سے رہا ہوئے تو وہ نفسیاتی مسائل کا شکار تھے۔ انہیں امریکی ڈرون اور طیاروں کا شدید خوف تھا۔ گرفتاری کے خوف سے ہمیں محفوظ مقامات پر رہنے کو کہا۔

العربیہ اور الحدث نے بہت سے اہم سوالات اکٹھے کیے اور انھیں اسماء محمد کے سامنے ایک مکالمہ کی شکل میں پیش کیا۔ ان میں کئی سالوں سے دنیا کو دہشت زدہ کرنے والی تنظیم کے سربراہ کے بارے میں نئی معلومات اور غیر متوقع اور شاید چونکا دینے والے جوابات شامل تھے۔

عرب اور بین الاقوامی میڈیا نے خصوصی طور پر العربیہ اور الحدث چینلز کی جانب سے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی بیویوں اور ان کی بیٹی کے ساتھ کیے گئے انٹرویو میں جدید دور کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ کے بارے میں کھلے رازوں کے بارے میں بات کی۔

قابل ذکر ہے کہ اسماء محمد کو جون 2018ء میں ترکیہ میں شام کی سرحد پر واقع ترک صوبے ہاتے سے گرفتار کیا گیا تھا تاہم ترک حکام نے نومبر 2019ء سے پہلے ان کی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا تھا۔ انقرہ نے اس وقت انکشاف کیا تھا کہ البغدادی کی بیوہ ان کی بیٹی لیلیٰ سمیت دس دیگر افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ ایک ترک اہلکار نے اس وقت کہا تھا کہ یہ البغدادی کی "پہلی بیوی" تھی۔

شدت پسند تنظیم [داعش] نے 2014ء میں شام اور عراق کے بڑے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اسے دونوں ممالک میں پے درپے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ 2019ء میں اس کے کنٹرول کے تمام علاقے اسے چھین لیے گئے۔

تاہم دہشت گرد تنظیم اب بھی عراق کے شمال میں دور دراز علاقوں میں کچھ سیلز کی شکل میں موجود ہے۔ عراقی فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف وقتاً فوقتاً حملے کرتی رہتی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی گذشتہ جولائی (2023) کی شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اشارہ دیا گیا تھا کہ مرکزی تنظیم کا ڈھانچہ جس کی طاقت میں نمایاں کمی آئی ہے اس میں اب بھی عراق اور شام دونوں میں 5,000 سے 7,000 کے درمیان افراد شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں