غرب اردن میں اسرائیل کے تازہ آباد کاری منصوبے کی امریکا اور فلسطین کی طرف سے مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز اسرائیل کے مغربی کنارے میں 3,300 سے زائد نئی بستیوں کی تعمیرکے منصوبے کی مذمت کی ہے جو جنگ کو روکنے اور فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے حل تک پہنچنے کی کوششوں کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

وزارت خارجہ نے اپنے فیس بک پیج پر ایک بیان میں کہا ہے کہ مغربی کنارے میں معالیہ ادومیم بستی میں نئے سیٹلمنٹ یونٹس کی تعمیر "مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے کےالحاق کی اسرائیل کی سرکاری کوششوں کا ہے۔ یہ اقدام فلسطینی ریاست کو عملی شکل دینے کے کسی بھی موقع کو کمزور کرتا اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ قدم بین الاقوامی قراردادوں خاص طور پر قرارداد 2334 اور جنگ کو روکنے اور پرامن طریقوں سے تنازعہ کو حل کرنے کی کوششوں کے لیے بھی ایک کھلا چیلنج ہے۔"

فلسطینی وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد میں ناکامی اسرائیلی حکومت کو فلسطینی ریاست کی سرزمین پر آباد کاری کو مزید گہرا اور وسیع کرنے، تنازعات کے میدان میں مزید آگ بھڑکانے اور اسے تشدد اور افراتفری کی طرف لے جانے کی ترغیب دیتی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے جمعہ کے روز کہا کہ اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کا منصوبہ بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ارجنٹائن کے دورے کے دوران ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیل کی طرف سے مغربی کنارے میں نئے ہاؤسنگ یونٹس بنانے کے منصوبے کے اعلان سے امریکہ "مایوس" ہوا ہے۔ اس سے خطے میں امن کی دیرپا کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

بلنکن نے مزید کہا کہ "آبادکاری کے منصوبے بین الاقوامی قانون سے بھی مطابقت نہیں رکھتے۔ ہماری انتظامیہ بستیوں کی توسیع کی سخت مخالفت کرتی ہے اور ہمارے خیال میں اس طرح کی کوششیں اسرائیل کی سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کریں گی۔

نومبر 2019ء میں ٹرمپ کے ماتحت امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ واشنگٹن اب مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو "بین الاقوامی قانون سے متصادم" نہیں سمجھتا، جس سے چار دہائیوں پر محیط امریکی پالیسی تبدیل ہوگئی تھی۔

مہینوں بعد جنوری 2020ء میں ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل-فلسطین تنازعہ کے لیے ایک امن منصوبے کا اعلان کیا جسے اسرائیل نے اپنایا اور فلسطینیوں نے مسترد کر دیا تھا۔ان کے اس منصوبے میں اسرائیل کے لیے سب کچھ تھا مگر فلسطینیوں کے لیے کچھ بھی نہیں۔ انہیں ان کے بنیادی مطالبات سے بھی محروم کردیا گیا تھا۔

بائیڈن انتظامیہ نے بارہا اعلان کیا ہے کہ بستیوں کی توسیع سے مستقل امن کی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے لیکن بلنکن کا جمعہ کو یہ پہلا موقع ہے جس میں کسی امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہے۔

یہ قدم انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے اس اعلان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور دیگر وزراء نے فلسطینیوں کے جمعرات کے روز کیے گئے حملے کے بعد غرب اردن میں 3300 نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کی منظوری دی گئی۔

سموٹریچ نے جمعرات کو کہا تھا کہ زیر بحث اکائیوں میں سے زیادہ تر یروشلم کے مشرق میں مغربی کنارے کے علاقوں میں واقع ہیں اور دیگر یونٹس فلسطینی شہر بیت لحم کے جنوب میں واقع ہیں۔

زیادہ تر ممالک فلسطینی علاقوں میں آبادی کے مراکز اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بائیڈن انتظامیہ اس معاملے میں "بنیادی نتیجے کی تصدیق کرتی ہے"۔

کربی نے مزید کہا کہ "یہ ایک ایسی پوزیشن ہے جو ریپبلکن اور ڈیموکریٹک انتظامیہ کی ایک حد میں مستقل رہی ہے۔ اگر کوئی متضاد انتظامیہ ہے تو وہ پچھلی انتظامیہ ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں