غزہ کے لوگ بھوک سے مرنے لگے، باپ نے کمسن بچوں کو بچانے کے لیے گھوڑے کا گوشت کھلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

یہ ایتھوپیا نہیں فلسطین ہے۔ عرب دنیا ہی نہیں پوری مسلم دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت کاحامل اور اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفر معراج کا اہم حوالہ بھی اور مسلمانوں کے قبلہ اول کی سرزمین بھی۔ مگر اس کے علاقے غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں بے گھر ہو چکے فلسطینی بالعموم اور ان کے بچے بالخصوص آج اس قدر قحط زدہ اور بھوک کے ہاتھوں مجبور ہیں کہ انہیں گھوڑے کا گوشت سمیت نہ جانے کیا کیا کھانا پڑ رہا ہے۔

اردن ، مصر، شام سے قریب تر اور سعودی عرب اور عراق سے بھی زیادہ دور نہیں مگر ایک طرف انواع و اقسام کی نعمتوں کی ایک دنیا آباد ہے اور دوسری جانب فلسطینی عرب بچے آج بھوک پیاس اور جسم پر پہننے کے کپڑے ، مکان کی چھت اور گھر کے در ودیوار سے محروم ہیں۔ گویا نہ چادر ہے نہ چار دیواری۔

یہی وجہ ہے کہ غزہ کے شمالی علاقے میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں بھوک کے ہاتھوں مرنے سے بچنے کے لیے ایک بےگھر فلسطینی نے اپنے بچوں کی جان بچانے کے لیے دو گھوڑوں کو ذبح کیا ہے۔ تاکہ وہ کچھ اور نہ ملنے کے باعث گھوڑوں کا گوشت کھا کر ہی زندہ رہ سکیں۔

ابو جبریل نامی اس فلسطینی نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا 'میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا کہ اپنے بھوک سے نڈھال بچوں کو خوراک دے سکتا۔ اس لیے میں نے اپنے گھوڑوں کو ذبح کر دیا۔'

جبالیہ فلسطینی علاقے میں سب سے بڑا پناہ گزین کیمپ تھا۔ اس کا ذکر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے۔ مگر اب جبالیہ میں جنگ کے بعد تباہی ہے، کھنڈر ہیں، ملبہ ہے اور بھوکے، ننگے، پیاسے فلسطینی بچے ہیں۔

ساٹھ سالہ ابو جبریل اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہونے والی تباہی و بربادی کے بعد اپنے گھر سے نکل کر بیت حنون چلے گئے تھے جب یہ لڑائی شروع ہوئی۔ مگر اب ابو جبریل اور ان کے اہل خانہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والے ایک سکول میں لگائے گئے خیمے میں رہتے ہیں۔

زہریلا پانی، بجلی کا مسلسل نہ ہونا اور بےگھروں کے گنجان آباد اس کیمپ میں رہتے ہوئے مشکلات جن کا انہیں سامنا ہے کوئی اور اندازہ نہیں کر سکتا۔ یہ پناہ گزین کیمپ 1948 میں 1 اعشاریہ 4 مربع کلومیٹر کے علاقے میں قائم کیا گیا تھا۔ یقیناً یہ اس وقت کی ضرورتوں کے مطابق کافی ہوسکتا تھا۔ لیکن نئی اسرائیلی جنگ کے بعد یہ جگہ اور اس جگہ پر رہنے والوں کے لیے زندگی کے انتہائی ضروری لوازمات میں سے تقریباً سبھوں کے بغیر یہاں رہنا غیرمعمولی کام ہے۔ اب یہاں نہ روزگار ہے نہ روزگار کے مواقع۔ مگر غربت اور مہنگائی کا گراف اس قدر زیادہ ہے کہ اس کے مقابل ہر کوئی بےچارگی کا شکار ہے۔

اب امدادی اداروں کے پاس بھی خوراک کی موجودگی ختم ہو رہی ہے کہ ان تک خوراک کی ترسیل اسرائیلی فوج کی مسلسل بمباری کی وجہ سے ممکن نہیں رہی ہے۔ شمالی غزہ ہی میں چند دن پہلے عالمی ادارہ برائے خوراک نے خوراک کی سپلائی اس کے باوجود روک دی ہے کہ وہاں لوگ بھوکوں مر رہے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے خوراک کا کہنا ہے اسرائیل کی مسلسل بمباری میں خوراک کی ترسیل جاری نہیں رکھ سکتے۔ اگرچہ ہمیں اندازہ ہے کہ اس سے بڑے خطرات پیدا ہوں گے۔

عالمی ادارہ برائے خوراک یہ بھی کہہ چکا ہے کہ خوراک سے محرومی کا غزہ میں منظر بےمثال ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں 22 لاکھ لوگ قحط کی زد میں ہیں۔ جمعہ کے روز غزہ میں وزارت صحت نے اطلاع دی تھی کہ دو ماہ کی فلسطینی بچہ دودھ نہ ملنے کے باعث جاں بحق ہو گیا۔ اتفاق ہے یہ موت ہسپتال میں ہوئی۔ جہاں پناہ گزین کیمپ سے کہیں زیادہ بہتر امید تھی کہ اس بچے کو کم از کم دودھ میسر آتا رہے گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔

فلسطینی وزارت صحت برائے غزہ نے ہفتہ کے روز جاری کردہ اعداد و شمار میں کہا ہے کہ پچھلے ساڑھے چار ماہ کے دوران 29606 فلسطینی قتل ہوئے ہیں۔ یقیناً یہ دو ماہ کا بچہ مقتولین میں تو شامل ہے مگر بمباری سے نہیں بھوک کے ہتھیار سے قتل کیا گیا۔

کیمپ میں، بستر پر پڑے بچے شدت کے ساتھ انتظار کرتے ہیں، جبکہ بہت سارے بچے پناہ گزین کیمپوں میں ہاتھوں میں پلاسٹک کے ڈبے اور کھانا پکانے کے برتن پکڑے نظر آتے ہیں کہ انہیں بھی کچھ کھانے کو مل جائے۔ یہ سب فلسطینی بنیادی طور پر عرب شہری ہیں۔ ۔

جو تھوڑا بہت اناج دستیاب ہے وہ ان بےگھر فلسطینیوں کی دسترس سے باہر ہے۔ کیونکہ اس قحط زدگی کے امحؤل میں جو چاول پہلے 2 اسرائیلی شیکل کے حصاب سے پورے کلو گرام تک مل جاتے تھے اب 55 شیکل میں بھی دستیابی مشکل ہے۔ جو لوگ کھانے پینے کی کچھ اشیاء خریدنا چاہتے ہیں یہ سب کچھ اب ان کے بس میں نہیں رہا۔

ابو جبریل نے کہا 'ہم بڑی عمر کے لوگ تو بھوک اور پیاس برداشت کر لیتے ہیںکہ ہمیں اپنی زندگی کے اس مشکل مرحلے کا اندازہ ہے لیکن 4 اور 5 سال کے بچوں کو بھوکا ننگا رکھنا بہت مشکل ہے۔ انہیں بھوکا سلانا اور بیدار ہوتے ہی بھوک سے بلکتا دیکھ کر ہماری برداشت جواب دے جاتی ہے۔'

اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے 'یونیسف' نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں خوراک کی کمی خطرناک حد تک زیادہ ہوچکی ہے۔ بھوک سے پیدا ہونے والی بیماریاں غذہ میں بچوں کی اموات کے دھماکے کی صورت سامنے آسکتی ہے۔ ہر 6 بچوں میں ساے ایک بچہ خوراکی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ جس کی عمر دو سال سے بھی کم ہوتی ہے۔ یونیسف کے مطابق یہ اعداد و شمار 19 فروری تک کا ہے۔

فلسطینی خاتون نے کہا غزہ کے رہائشی اور ان کے بچے بھوک اور افلاس سے تنگ آکر گلی سڑی اشیاء، جانوروں کا چارہ اور درختوں کے پتے تک کھانے کو تیار ملتے ہیں۔ کہ ان کے لیے اب غزہ میں کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ نہ گندم کی روتی نہ پینے کاصاف پانی '

'ہم ہمسایوں کے ہاں سے مانگنے کے لیے جاتے ہیں کہ کچھ ادھار مل جائے کہ ہمارے گھر میں اس وقت ایک سکہ بھی باقی نہیں ہے۔ ہم دروازوسں پر دستک دیتے ہیں مگر کوئی ہمیں کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

جبالیہ میں بھوک کی وجہ سے غم وغصہ کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جمعہ کے روز ایک بچے نے کتبہ اٹھا رکھا تھا 'ہم بمباری سے نہیں مر سکے تو اب ہمیں بھوک سے مارا جا رہا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں