’پی ایل او‘ کے بغیر کوئی حکومت بنی اور نہ ہی بنے گی: تحریک فتح کا حماس کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کے ردعمل میں فتح کے ترجمان عبدالفتاح دولہ نے جمعے کے روز العربیہ اور الحدث کو اپنے بیان میں زور دے کر کہا کہ فلسطینیوں کی واحد نمائندہ ہونے کی بنا پر "فلسطین لبریشن آرگنائزیشن‘‘ کی چھتری سے باہر کوئی بھی حکومت قائم نہیں کی جا سکتی۔

قبل ازیں جمعے کو حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کی تعمیر نو اور انتخابات کی تیاری کے لیے فلسطینی دھڑوں کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے متفق ہو گئی ہے۔

فتح کے ترجمان نے کہا کہ "ہم فلسطینیوں کو ریلیف فراہم کرنے اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک ٹیکنوکریٹک حکومت بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اب ترجیح سیاسی ٹریک پر احترام بحال کرنا اور غزہ کی تعمیر نو کرنا ہے"۔

حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ تحریک فلسطینی دھڑوں کے ساتھ ایک حکومت بنانے کے لیے متفق ہو گئی ہے جس کا مقصد فلسطینی عوام کو ریلیف فراہم کرنا، غزہ کی تعمیر نو کا عمل شروع کرنا اور فلسطینی انتخابات کی تیاری کرنا ہے۔

حمدان نے بیروت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ حماس اپنے مطالبات پر قائم ہے اور میدان جنگ میں اس کا موقف اس کی حمایت کرتا ہے۔ اسرائیلی فوج جنگ کے کسی بھی مرحلے میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو گی۔

حماس کے رہ نما نے ورلڈ فوڈ پروگرام اور اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (اونروا) سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی اقدامات کی تعمیل نہ کریں اور شمالی غزہ میں فوری طور پر کام پر واپس جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے لوگ بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اوراس کے اداروں کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ انہیں ضروری امداد اور ریلیف فراہم کرنے ان پرسے محاصرہ ختم کرے۔

حمدان نے مزید کہا کہ "ہم عالمی فوڈ پروگرام اور اقوام متحدہ کے تمام اداروں بشمول UNRWA سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی قانونی اور انسانی ذمہ داریوں کی تعمیل کرتے ہوئے فلسطینیوں کوریلیف فراہم کرنے اور قحط کے بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے موثر اور سنجیدہ اقدامات کریں"۔

حماس کے رہ نما نے وضاحت کی کہ اسرائیل اب بھی اپنے مطالبات خاص طور پر جنگ بند کرنے، بے گھر ہونے والوں کی واپسی اور محاصرہ اٹھانے کے حوالے سے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں