اسرائیل غزہ کی جنگ کو آڑ بنا کر مغربی کنارے میں مزید فلسطینی زمین ہڑپ کرنے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ میں تقریبا پانچ ماہ سے جاری اسرایئلی جنگ کی آڑ میں اسرائیل کی مغربی کنارے میں قبضہ کی مزید کوششیں مغربی حکومتیں سمجھنے لگیں کہ اسرائیل اور یہودی آباد کار ناجایز یہودی بستیاں قائم کرنے میں فعال ہورہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں مغربی کنارےمیں بعض یہودی انتہا پسند آبادکاروں پر یورپی ملکوں نے اسی پس منظر میں پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آئندہ ہفتوں میں یورپی ملکوں کی طرف سے اس سلسلے میں یہودی آبادکاروں پر مزید پابندیوں کا امکان ہے لیکن اس کے باوجود وہ وزیر خزانہ اور انتہا پسند یہودی رہنما بزا لیل سموٹریچ کو روکنا مشکل رہا۔

اسی وجہ سے پچھلے ہفتے سموٹریچ نے مغربی کنارے می یہودی بستی میں مزید 3300 مکانات بنا کر آنے والے نئے یہودیوں کو دینے کا فیصلہ کیا یہ فیصلہ اسرائیلی کابینہ سے بھی منظور کرا لیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ' پیس ناؤ' نے اسرائیل کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے ۔ یہ تنظیم انسانی حقوق کی حامی ہونے کے ساتھ ساتھ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی بھی حامی ہے ۔اس کا کینا ہے کی نئی 26 کمیونٹیوں کو بارہپ مہینوں کے دوران آباد کیا گیا ہے جو کہ 2023 میں ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔

یوناتن مزراچی یہودی بستیوں کی مانیٹرنگ کے لیے ' پیس ناؤ' سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزارت خزانہ کا یہ اعلان غیر معمولی بات ہے کہ ایک طرف غزہ میں جنگ جاری ہے اور دوسری طرف مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زمیں پر قبضے جاری ہیں ۔

اسی طرح ' سیٹلمینٹ واچ سمری ' نے 2023 کے سال کو یہودی بستیوں کے لیے اچھا سال جبکہ اسرائیل کے لیے برا سال قرار دیا ہے ۔ اس سال کے دوران سب سے بڑی یہودی بستیوں کی تعمیر کی گئی ہے، نئی غیر قانونی ' آؤٹ پوسٹ ' تعمیر کی گئی ہیں اور ایک غیر معمولی بجٹ ان تعمیرات پر خرچ کیا گیا ہے ۔ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہودی آبادکاروں کے لیے غیر معمولی حمایت پائی جاتی ہے۔

جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایسا سب سے کم دیکھا گیا ہے کہ غیر قانونی ' آؤٹ پوسٹ' کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہو بلکہ یہودی آباد کار اس جنگی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی آؤٹ پوسٹس قائم کر رہے ہیں نئی سڑکیں بنائی ہیں اور نئی جگہوں پر تعمیراتی ڈھانچے تعمیر کیے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے جمعہ کے روز یہودی بستیوں کے بارے میں اپنی پالیسی کو بحال کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہودی بستیاں بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں۔ امریکہ کا یہ مؤقف سموٹریچ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں نئے یہودی آبادکاروں کے لیے 3300 نئے گھر تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پچھلے سال اسرائیل نے جب نئی یہودیوں بستیوں کی تعمیر کی منظوری دی تھی تو جوبائیڈن انتظامیہ نے اسرائیلی سفیر کو بلاکر اس سے بازپرس کی تھی ۔ اب ایک بار پھر نیتن یاہو حکومت نے اپنے سب سے بڑے انتہا پسند اتحادیوں کے ساتھ مل کر نئی یہودی بستیاں بنانے کی منظوری دی ہے ۔ نیز پہلے سے موجود یہودی بستیوں میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔

اس آنے والی تبدیلی کے پیش نظر مغربی کنارے میں 15 'آؤٹ پوسٹ ' کو قانونی قرار دیا ہے ۔ جبکہ حکومت نے پورے مغربی کنارے میں 12349 نئے گھر بنانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں پر حملے کرکے انہیں جبری طور پر نکال دیا ہے ۔ 12 مہینوں کے دوران 21 کمیونٹیز کو ان کے گھروں سبے دخل کیا گیا ہے۔ ان میں 16 کمیونٹیز کو 7 اکتوبر کے بعد جبری طور نکالا گیا ہے ۔ ان واقعات کے لیے بلا محالہ یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں کے خلاف جبر و تشدد کا برتاؤ کیا ہے اسی طرح 7 اکتوبر کے بعد یہودی حملہ آوروں کے بھی حملے بڑھ گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مرتب کردہ جائزے کا مطابو بتا یا گیا ہے کی 7 اکتوبر کے بعد سے اب تک 532 حملے کیے گئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں بہت سے فلسطینیوں کی جائیدادیں تباہ ہو گئی ہیں ۔ 2019 سے لے کر اب تک 4525 جائیدادیں تباہ کی گئی ہیں۔

اگرچہ غزہ کے بارے م،یں مغربی ملک اسرائیل پر اس طرح سے دباؤ نہیں ڈال رہے جس ظرح کی ان سے توقع کی جارہی تھی لیکن مغربی کنارے کی صورتحال مختلف ہے لیکن یورپی ممالک نے مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات بڑھنے پر بار بار انتباہ کیا ہے ۔ ابھی حالیہ دنوں میں پرتشدد اور چند انتہا پسند یہودی آبادکاروں پر پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں