اسرائیل کا غزہ جنگ بندی کے معاملے پر آئندہ اقدامات پر تبادلۂ خیال، فلسطینی مزید مایوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اسرائیل کی جنگی کابینہ نے حماس کے ساتھ اپنی جنگ میں یرغمالیوں کے معاہدے اور جنگ بندی مذاکرات کے لیے آئندہ اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا ہے کیونکہ تباہ حال غزہ کی پٹی میں شہریوں کو درپیش بڑھتی ہوئی مایوس کن صورتِ حال پر تشویش گہری ہوتی جا رہی ہے۔

ایک سرکاری اور مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایک اسرائیلی وفد جو یرغمالیوں کے معاہدے پر تازہ مذاکرات کے لیے پیرس گیا تھا، ملک کی جنگی کابینہ کو بریف کرنے کے لیے ہفتے کی رات واپس آ گیا۔

قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہینیگبی نے ملاقات سے کچھ دیر پہلے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ "وفد پیرس سے واپس آ گیا ہے - ممکنہ طور پر ایک معاہدے کی طرف بڑھنے کی گنجائش ہے"۔

وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ملاقات میں "مذاکرات کے آئندہ اقدامات" پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

مقامی میڈیا نے بعد میں اطلاع دی کہ کابینہ نے مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے آئندہ دنوں میں ایک وفد قطر بھیجنے پر رضامندی کے ساتھ اجلاس ختم کر دیا۔

جیسا کہ نومبر میں ایک ہفتے کی گذشتہ جنگ بندی میں 100 سے زائد یرغمالیوں کو آزاد کرایا گیا تھا تو قطر، مصر اور امریکہ معاہدہ طے کروانے کی کوششوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

اسیران کو واپس لانے کے لیے حکومت پر اندرونی دباؤ بھی بتدریج بڑھتا جا رہا ہے اور ہفتے کی رات تل ابیب میں ہزاروں افراد تیز تر کارروائی کا مطالبہ کرنے کے لیے اس جگہ جمع ہو گئے جسے "یرغمالی اسکوائر" کے نام سے جانا جاتا ہے۔

45 سالہ ایویت یابلونکا کی بہن حنان کو 7 اکتوبر کو اغوا کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، "ہم آپ کو بتاتے رہتے ہیں: انہیں ہمارے پاس واپس لاؤ! کسی بھی طریقے سے۔"

تل ابیب میں حکومت مخالف مظاہرین بھی باہر نکل کر سڑکیں بلاک اور نیتن یاہو کی حکومت سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ حکام نے انہیں منتشر کرنے کے لیے پانی والی توپ (واٹر کینن) اور گھڑ سوار افسران تعینات کیے تھے۔

سافٹ ویئر کمپنی کے 54 سالہ سی ای او موتی کشنر نے حکومت کے بارے میں کہا، "وہ ہمارے لیے صحیح راستے کا انتخاب نہیں کر رہے۔ چاہے وہ (معیشت) ہو یا ہمارے ہمسایوں کے ساتھ امن۔" اور مزید کہا، "یوں لگتا ہے کہ وہ کبھی جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے"۔

بڑھتی ہوئی مایوسی

محصور غزہ کی پٹی کے اندر چار ماہ سے زائد کی قلت کے بعد عالمی غذائی پروگرام نے اس ہفتے کہا کہ اس کی ٹیموں نے "مایوسی کی بے مثال سطح" کی اطلاع دی جبکہ اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ 2.2 ملین افراد قحط کے دہانے پر ہیں۔

شمالی غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں گندے اور ناصاف بچے پلاسٹک کے ڈبے اور کھانا پکانے کے ٹیڑھے میڑھے اور خراب حالت والے برتنوں کو تھوڑی مقدار میں دستیاب کھانے کے لیے آگے کر دیتے تھے۔

سپلائی ختم ہو رہی ہے اور امدادی ایجنسیاں بمباری کی وجہ سے علاقے میں داخل نہیں ہو پا رہیں جبکہ ٹرک جو جانے کی کوشش کرتے ہیں انہیں جنونی قسم کی لوٹ مار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایک آدمی نے غصے سے کہا، "ہم بڑے تو پھر بھی گذارہ کر سکتے ہیں لیکن یہ بچے جو چار پانچ سال کے ہیں، ان کا کیا قصور ہے کہ بھوکے سوئیں اور بھوکے جاگیں؟"

مکین بوسیدہ مکئی اور جانوروں کا چارہ کوڑے سے تلاش کر کے کھانے پر انحصار کر رہے ہیں جو انسانی استعمال کے لیے موزوں نہیں اور حتیٰ کہ پتے بھی۔

وزارتِ صحت نے ہفتے کے روز کہا کہ غزہ شہر میں ایک دو ماہ کا بچہ جس کی شناخت محمود فتوح کے نام سے ہوئی، "غذائیت کی کمی" کے باعث فوت ہو گیا تھا۔

سیو دی چلڈرن نے کہا کہ "قحط کا خطرہ تب تک بڑھتا رہے گا جب تک اسرائیل کی حکومت غزہ میں امداد کے داخلے میں رکاوٹیں کھڑی کرتی رہے گی۔"

اسرائیل نے غزہ میں امداد کی اجازت دینے کے اپنے ٹریک ریکارڈ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک امدادی سامان لے جانے والے 13,000 ٹرک علاقے میں داخل ہو چکے ہیں۔

یہ جنگ حماس کے 7 اکتوبر کے بے مثال حملے کے بعد شروع ہوئی جس میں اسرائیل میں تقریباً 1,160 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس نے لوگوں کو یرغمال بھی بنایا جن میں سے 130 غزہ میں بدستور موجود ہیں اور اسرائیل کے مطابق ان میں سے 30 افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی جوابی کارروائی میں کم از کم 29,606 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

وزارت نے اتوار کے اوائل میں کہا کہ مزید 98 افراد راتوں رات مارے گئے جبکہ حماس کے میڈیا آفس نے شمال میں بیت لاہیا سے لے کر جنوب میں رفح تک پورے علاقے میں حملوں کی اطلاع دی۔

رفح میں مزید حملے

اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ ہفتے کی شام مصر کے ساتھ علاقے کی جنوبی سرحد کے برابر واقع شہر رفح میں متعدد فضائی حملے ہوئے ہیں جہاں سے غزہ کے لاکھوں باشندے لڑائی سے بچنے کے لیے دوسری جگہوں پر بھاگ گئے ہیں۔

چونکہ اس علاقے میں بہت بڑی تعداد میں شہری موجود ہیں تو اسرائیلی فوجیوں کے آخر ِکار شہر میں داخل ہونے کے منصوبے پر تشویش پیدا ہوئی ہے جو آخری بڑا شہری مرکز ہے جہاں ان کا داخل ہونا باقی ہے۔

اہم اتحادی ریاست ہائے متحدہ کی طرف سے بھی خدشات کے باوجود نیتن یاہو نے ہفتے کی رات اشارہ کیا کہ اسرائیلی فوج کی متوقع پیش رفت ترک نہیں کی گئی اور مزید کہا، "ہفتے کے آغاز میں میں رفح میں کارروائی کے منصوبوں بشمول وہاں سے شہری آبادی کے انخلاء کی منظوری کے لیے کابینہ کا اجلاس بلاؤں گا۔"

انہوں نے مزید کہا، "صرف فوجی دباؤ اور پختہ مذاکرات کا مجموعہ ہی ہمارے یرغمالیوں کی رہائی، حماس کے خاتمے اور جنگ کے تمام اہداف کے حصول کا باعث ہو گا۔"

نیتن یاہو نے اس ہفتے جنگ کے بعد کے غزہ کے لیے ایک منصوبے کی نقاب کشائی کی جس کے تحت حماس سے روابط کے بغیر فلسطینی حکام کے سول امور چلانے کا تصور دیا گیا ہے۔

منصوبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ کے اندر علاقے کی سرحد کے ساتھ سکیورٹی بفر زون کا قیام جاری رکھے گا۔

حماس اور اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی دونوں نے یہ منصوبہ مسترد کر دیا ہے اور واشنگٹن کی طرف سے اس پر تنقید ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں