معاہدہ تک پہنچنے سے بہت دور، حماس نے اپنے کچھ مطالبات چھوڑ دئیے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی میڈیا نے ایک سینیئر اہلکار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ”ہم ابھی تک کسی معاہدے تک پہنچنے سے بہت دور ہیں، لیکن حماس نے اپنے کچھ مطالبات سے پسپائی اختیار کرلی ہے۔ قبل ازیں صہیونی اخبار ”یدیعوت احرونوت“ نے کہا تھا کہ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر پیرس مذاکرات اچھے تھے اور توقع سے زیادہ دیر تک جاری رہے۔ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے ایک تازہ ترین فریم ورک پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔ نئی پیش رفت کے تحت رہا کیے جانے والے قیدیوں کی تعداد کا تعین کرنے کے لیے اقدام کیا جا سکتا ہے۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق اسرائیلی وفد ہفتہ کو پیرس واپس آیا جہاں اس نے مصر، قطر اور امریکہ کے نمائندوں کے ہمراہ ملاقاتوں میں شرکت کی۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق موساد کے سربراہ نے اپنے موقف کو نرم کرنے کے لیے جنگی کونسل سے اجازت حاصل کرلی ہے۔ اس سے حماس کے ہاتھوں یرغمال اسرائیلیوں کی رہائی کے بدلے رہا کئے جانے والے فلسطینی قیدیو ں کی تعداد بڑھائی جا سکتی ہے۔ پیرس میں مذاکرات کا ہدف غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ نے قطر، مصر اور امریکہ کے ساتھ الگ الگ کئے ہیں۔ اب سنجیدہ مذاکرات کے آغاز کے لیے بہتری کے نئے امکانات سامنے آئے ہیں۔

دوسری طرف حماس کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ قاھرہ میں جنگ بندی کے مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے ہیں اور اب ثالثوں کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے کیا نتائج سامنے لائے جاتے ہیں۔ مذاکرات کے ثالثوں نے اسرائیل کے رفح پر حملے سے باز رہنے کی امید پر غزہ میں جنگ بندی پر توانائیاں خرچ کی ہیں۔

حماس کا کہنا ہے کہ سو سے زیادہ برغمالیوں اس وقت تک رہا نہیں ہونگے جب تک اسرائیل غزہ سے مکمل انخلا نہ کرلے ۔ دوسری طرف اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے خاتمے سے قبل غزہ سے نہیں نکلے گا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں