جنگ زدہ غزہ : گردوں کے امراض میں مبتلا شہری علاج کے لیے پریشان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ساڑھے چار ماہ سے زائد عرصے پر پھیلی جنگ نے دوسرے بہت سے مسائل کے علاوہ غزہ میں موجود گردوں کے امراض کا شکار ہزاروں مریض بھی سخت پریشانی کا شکار ہورہے ہیں۔ کیونکہ غزہ کے ہسپتالوں کی تباہی اور ناکارہ ہونے کے بعد پورے غزہ میں ایک ہی ڈائیلیسز سنٹر کام کر رہا اور سارے کا سارا بوجھ اس ایک سنٹر پر ہی ہے۔ لیکن اس میں مریضوں کے علاج کی گنجائش مریضوں کے مقابلے بہت ہی کم ہے۔

واضح رہے غزہ کا ابو یوسف النجار ہسپتال صرف ہی واحد ہسپتال ہے جو گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائیلسز سنٹر کا بھی کام کرتا ہے۔ یہ سنٹر رفح میں واقع ہے۔ لیکن غزہ میں جاری لمبی جنگ کی وجہ سے بے گھر فلسطینیوں کا رفح میں ہجوم 14 لاکھ تک پہنچ چکا ہے۔ علاوہ ازیں زخمیوں اور مریضوں کا رش بھی اسی جانب ہے۔

وزارت صحت کے مطابق اس ہسپتال میں 18 ڈائیلسز مشینیں دستیاب ہیں۔ لیکن ان میں سے صرف دس دائیلسز مشینیں جو یومیہ 105 مریضوں کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ جبکہ یومیہ بنیادوں پر 600 مریضوں کو دائیلسز کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ اس وقت 18 دائیلسز مشینیں 24 گھنٹے کام کر رہی ہیں۔ حتیٰ کہ 24 گھنٹے کام کرنے کے بعد بھی یہ ڈائیلسز مشینیں مریضوں کی ضروریات کو پورا نہیں کر رہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ ہسپتال میں بہت سے طبی آلات خراب ہو چکے ہیں مگر ان کی مرمت کا کوئی امکان نطر آتا ہے۔ سید نفیض بارکہ نے کہا وہ ایک طویل عرصے سے ڈائیلسز کراہے ہیں۔ مگر اب جنگ کی وجہ سے سخت پریشانی سے گزر رہا ہوں۔ مجھے ایک ہفتے کے دوران تین بار ڈائیلسز کرانا ہوتا ہے، مگر اب بہت مشکلات ہیں۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں سے انتطار میں بیٹھا ہوں لیکن ابھی باری نہیں آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں