فلسطین اسرائیل تنازع

’ہم فضائی بمباری سے بچ گئے مگر بھوک سےمررہے ہیں‘:غزہ کے فاقہ کش پھٹ پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ سال سات اکتوبر سے فلسطینی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کا مرکز بننے والی غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں نہ صرف بمباری سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں بلکہ غزہ کی آبادی کو قحط اور فاقہ کشی جیسے سنگین خطرات بھی موت سے کم مہلک نہیں۔

غزہ میں امداد کا داخلہ اسرائیلی منظوری سے مشروط ہے اور قلیل انسانی امداد بنیادی طور پر مصر کے ساتھ رفح کراسنگ کے ذریعے پٹی تک پہنچتی ہے، لیکن اسے شمال کی طرف لے جانا تباہی اور لڑائی کی وجہ سے خطرات سے بھرا ہوا ہے۔

امداد کی آمد میں تاخیرنے گنجان آباد علاقے بالخصوص جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں پھنسے فلسطینیوں کی پریشانی اور غم و غصے کی سطح کو بڑھا دیا ہے۔

درجنوں لوگوں نے گذشتہ چند دنوں سے اپنی عدم اطمینان کا اظہار کیا اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فضائی حملوں اور بمباری سے نہیں مرے مگر بھوک سے مررہے ہیں‘‘۔

کیمپ میں احمد عاطف صافی نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم قحط کی جنگ میں ہیں"۔

"موت زیادہ عزیز ہے"

جبالیہ کیمپ کے رہائشیوں میں سے ایک نے تصدیق کی کہ "یہاں آٹا، تیل اور پینے کا پانی نہیں ہے۔موت بہتر ، وافر اور عزیز ترہے"۔

رفح کے بچے اپنے کھانے کے راشن کا انتظار کر رہے ہیں (اے ایف پی)
رفح کے بچے اپنے کھانے کے راشن کا انتظار کر رہے ہیں (اے ایف پی)

جب کہ بہت سے بچوں کو قطاروں میں کھڑے پلاسٹک کے کنٹینر اور پھٹے ہوئے کھانا پکانے کے برتن اٹھائے ہوئے سڑکوں پر آئے۔ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔

جانور کی خوراک

دریں اثنا شمالی غزہ کے رہائشیوں کو اپنی بھوک مٹانے کے لیے بچا ہو چارہ، گلی سڑی مکئی، جانوروں کی خوراک اور یہاں تک کہ درختوں کے پتے کھانے پر مجبور کیا گیا۔

غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ محمود الفتوح نامی دو ماہ کے بچے کی موت "غذائی قلت" سے ہوئی۔

غزہ کے مناظر - غزہ سے بے گھر بچے خوراک حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں 2- ایجنسی فرانس پریس
غزہ کے مناظر - غزہ سے بے گھر بچے خوراک حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں 2- ایجنسی فرانس پریس

بچوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’سیو دی چلڈرن چیریٹی‘ نے خبردار کیا کہ "جب تک اسرائیلی حکومت غزہ میں امداد کے داخلے میں رکاوٹ ڈالتی رہے گی، قحط کا خطرہ بڑھتا رہے گا۔ پانی، صحت کی خدمات اور دیگر سہولیات تک رسائی ناممکن ہوجائےگی‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں