فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کا فلسطین آنے والے امدادی کارکنوں کو ویزوں کے اجرا اور تجدید سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے فلسطینیوں کی امداد کے لیے آنےوالے امدادی کارکنوں کی تجدید روک دی ہے۔ ویزوں اور ویزوں کی تجدید سے انکار ایسے حالات میں کیا جا رہا ہے جب پوری بین الاقوامی برادری غزہ کے 23 لاکھ کے قریب فلسطینی بے گھروں کی امداد میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کہہ رہی ہے۔

بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کے ڈائریکٹر فارس عروری کا کہنا ہے کہ ' جن لوگوں کو روکا گیا ہے ان میں کنٹری ڈائریکٹرز اور ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کے ساتھ ساتھ سینئر انتظامیہ اور مغربی کنارے میں کام کرنے والے یا غزہ کے اندر معاملات کو مربوط کرنے والے تارکین وطن بھی شامل ہیں۔'

اس ترقیاتی ادارے کے ممبر اداروں میں 'بھوک کے خلاف اقدام' ایمنیسٹی انٹرنیشنل، کئیر انٹرنیشنل اور کیتھولک ریلیف سروسز بھی شامل ہیں۔

واضح رہے اسرائیل کی وزارت بہبود نے اب تک ایسے ویزوں کی سفارشات میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ لیکن وزارت کے ترجمان گل ہوریف کا کہنا ہے' یہ ادارہ مطلوبہ پس منظر کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے خود کو کافی محسوس نہیں کرتا ، اس لیے اس نے اب وزیر اعظم کے دفتر سے ایک مختلف ادارے کو نامزد کرنے کی درخواست کی ہے۔'

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق وزیر اعظم نے یہ معاملہ قومی سلامتی کونسل کے شعبے ہے کہ وہ آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرے۔ وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق اس سلسلے میں اب کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

عروری نے کہا ' یہ اسرائیلی فیصلہ امدادی تنظیموں کے لیے ایک بہت بڑی رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔گزشتہ چند ہفتوں میں انسانی بنیادوں پر کام کرنے کے لیے غزہ اور مغربی کنارے میں آئے 60 فیصد سے زیادہ غیر ملکی کارکنوں کےویزے ختم ہو چکے ہیں۔ کیونکہ اسرائیلی حکام نے 7 اکتوبر سے ہی اسرائیلی حکام نے ورک ویزا جاری کرنا بند کر دیا تھا۔

اسرائیل ایک لمبے عرصے سے فلسطینیوں کی انسانی بنیادوں پر امداد کرنے آنے والے غیر حکومتی اداروں کو الزام دیتا آیا ہے کہ ان کا سیاسی ایجنڈا اسرائیل مخالفت کی بنیاد پر ہے۔ حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کو بھی اسرائیل اسی طرح کے الزامات دے رہا ہے۔

اس پس منظر میں بین الاقوامی اداروں سے وابستہ امدادی کارکن بھی کہہ رہے ہیں کہ ان کے لیے اسرائیلی ' ورک پرمٹس' اور ویزوں کی تجدید نہیں کر رہا ہے۔ بلکہ انہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ انہیں انہیں اگر یہاں قیام جاری رکھنا ہے تو بغیر کوئی امدادی کام کیے ہی رہنا ہے۔'

امدادی کارکنوں کی طرف سے 20 فروری کو اسرائیلی اٹارنی جنرل کو ایک خط لکھا گیا ' کہ اسرائیلی وزارت بہبود نے سات اکتوبر سے اچانک ہی ویزوں کی تجدید و اجرا کے لیے اپنا کر دار ادا کرنا بند کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے امدادی کارکنوں کے لیے مشکلات پیدا ہو گئی ہیں، نیز امدادی کام جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔'

اس خط میں اس معاملے کو جلد سے جلد طے کرنے کے لیے کہا گیا ہے ، کیونکہ اسرائیلی فیصلے کی وجہ سے اب تک امدادی تنظیموں کے تین جنرل مینیجرز کو اسرائیلی ویزے سے انکار مل چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں